وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا ہے کہ ”موصل کا شہر سرکاری افواج کے ہاتھ سے نکل گیا ہے اور اب عسکریت پسندوں کے رحم و کرم پر ہے۔” واضح رہے یہ دوسرا شہر ہے جس پر رواں سال کے دوران عسکریت پسندوں نے قبضہ کر لیا ہے۔
عسکریت پسندوں کو یہ کامیابی چار دن کی لڑائی کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ موصل شہر کے گورنر اثيل النجيفی کو حکومتی ہیڈ کوارٹرز میں یرغمال بنا لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں پولیس نے گورنر کو بازیاب کرا لیا ہے۔
عسکریت پسند سیکڑوں کی تعداد میں شہر میں گاڑیوں پر بھاری اسلحے کے ساتھ گشت کر رہے ہیں۔ گاڑیوں پر عسکریت پسندوں نے مشین گنیں نصب کر رکھی ہیں۔
گورنر نے اہل شہر سے عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ” میں شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے اپنے علاقوں میں مسلح مداخلت کاروں کا مقابلہ کریں۔”
واضح رہے موصل کا مغربی حصہ مکمل طور پر اسلامی عسکریت پسندوں کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ عسکریت پسند بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…