وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا ہے کہ ”موصل کا شہر سرکاری افواج کے ہاتھ سے نکل گیا ہے اور اب عسکریت پسندوں کے رحم و کرم پر ہے۔” واضح رہے یہ دوسرا شہر ہے جس پر رواں سال کے دوران عسکریت پسندوں نے قبضہ کر لیا ہے۔
عسکریت پسندوں کو یہ کامیابی چار دن کی لڑائی کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ موصل شہر کے گورنر اثيل النجيفی کو حکومتی ہیڈ کوارٹرز میں یرغمال بنا لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں پولیس نے گورنر کو بازیاب کرا لیا ہے۔
عسکریت پسند سیکڑوں کی تعداد میں شہر میں گاڑیوں پر بھاری اسلحے کے ساتھ گشت کر رہے ہیں۔ گاڑیوں پر عسکریت پسندوں نے مشین گنیں نصب کر رکھی ہیں۔
گورنر نے اہل شہر سے عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ” میں شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے اپنے علاقوں میں مسلح مداخلت کاروں کا مقابلہ کریں۔”
واضح رہے موصل کا مغربی حصہ مکمل طور پر اسلامی عسکریت پسندوں کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ عسکریت پسند بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…