Categories: مشرق وسطی

جیت گیا تو اخوان المسلمین کا وجود نہیں رہے گا

مصر میں فوج کے سابق سربراہ اور صدارتی انتخاب کے مضبوط امیدوار عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ وہ انتخاب جیت گے تو ملک میں معزول صدر محمد مرسی کی سیاسی جماعت اخوان المسلمین کا’ وجود‘ نہیں رہے گا۔

عبدالفتاح السیسی نے صدارتی انتخاب کی مہم میں مصری ٹی وی چینل کو اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ ان کو قتل کرنے کے دو منصوبوں کا سراغ لگایا جا چکا ہے۔
فیلڈ مارشل السیسی نے جولائی 2013 میں عوامی مظاہروں کے بعد منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ مصری عوام اخوان المسلمین کو مسترد کر چکی ہے اور وہ کبھی اقتدار میں واپس نہیں آئے گی۔
عبدالفتاح السیسی نےاس بات سے انکار کیا کہ جب گذشتہ سال محمد مرسی کو اقتدار سے الگ کیا تو اس وقت ان کے سیاسی عزائم تھے۔
انھوں نے کہا کہ جس کسی کو اگر ملک کے تحفظ، اس کی عوام اور ان کے مستقبل کو بچانے کا موقع ملتا تو اسے آگے آنا چاہیے تھا۔
عبدالفتاح السیسی نے صدارتی انتخاب میں فوج کا امیدوار ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ فوج کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔
انھوں نے ملک میں مظاہروں کے حق پر سخت پابندیوں کے قانون کا بھی دفاع کیا۔
مارچ میں عبدالفتاح السیسی نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کی 26 اور 27 تاریخ کو منعقد ہونے والے انتخابات میں ان کی کامیابی کے قومی امکانات ہیں۔
فیلڈ مارشل السیسی نے جولائی 2013 میں عوامی مظاہروں کے بعد ملک کے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔
عبدالفتاح السیسی کے مخالف انھیں ملک میں بڑے پیمانے پر حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کے لیے ذمہ دار گردانتے ہیں اور انھیں خدشہ ہے کہ السیسی کے صدر بننے کی صورت میں ملک سے حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے صرف تین برس بعد ایک اور مطلق العنان حکومت قائم ہو جائے گی۔
مصر کے معزول صدر محمد مرسی نے عبدالفتاح السیسی کو اگست 2012 میں ملک کا وزیرِ دفاع اور فوج کا سربراہ مقرر کیا تھا۔
تاہم صدر مرسی سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر عوامی مظاہروں کے بعد فیلڈ مارشل السیسی نے انھیں الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ عوامی خواہش کا احترام کریں ورنہ فوجی مداخلت کے لیے تیار رہیں۔
محمد مرسی کے مستعفی ہونے سے انکار پر عبدالفتاح السیسی نے ملک کا آئین معطل کرتے ہوئے ملک میں عبوری حکومت قائم کر دی تھی۔
گذشتہ ماہ ہی مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمین کے رہنما محمد بدیع سمیت 683 افراد کو سزائے موت سنائی ہے۔
یہ سزائیں معزول صدر مرسی کے بعد ملک میں بحرانی صورت حال پیدا ہونے اور کشیدگی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے مقدمے میں سنائی گئی ہیں۔ اس سے پہلے اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago