تیونس:خون سے ہاتھ نہ رنگنے والے جہادیوں کے لیے عام معافی

تیونس کے صدر منصف مرزوقی نے ہتھیار پھینکنے اور کسی کے قتل میں ماخوذ نہ کیے جانے والے جہادیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔

صدر منصف مرزوقی نے الجزائر کی سرحد کے نزدیک واقع جبل الشعانبی کے علاقے کا دورہ کیا ہے جہاں تیونسی سکیورٹی فورسزالقاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف کار ہیں۔
اس موقع پر انھوں نے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے سکیورٹی کونسل کے گذشتہ اجلاس میں ان لوگوں کو معافی دینے اور ان کے لیے مصالحتی قانون بنانے کا فیصلہ کیا تھا جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے نہیں ہیں۔ان کی اب بھی ہمارے عوام میں جگہ ہے”۔
انھوں نے کہا کہ ”ہم ہتھیار پھینکنے اور اپنے ملک میں واپس آنے والوں کےلیے مصالحت کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں”۔انھوں نے جہادیوں سے مخاطب ہوکر کہا:”تم ہتھیار ڈال دو،پہاڑوں سے نیچے اترو اور اپنے لوگوں میں لوٹ آؤ”۔
صدر مرزوقی نے اپنے مجوزہ معافی نامے کی مزید تفصیل نہیں بتائی اور نہ یہ بتایا ہے کہ اس مجوزہ مصالحتی قانون کا مسودہ کب منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔
تیونس میں نافذ العمل انسداد دہشت گردی کا موجودہ قانون سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کے دوحکومت میں 2003ء میں منظور کیا گیا تھا۔اس کے تحت کسی بھی کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد کو لمبی قید کی سزائیں سنائی جاسکتی ہیں،خواہ یہ مشتبہ افراد تشدد کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہوں یا نہ رہے ہوں۔
تیونس کی سکیورٹی فورسز 2012ء سے جبل الشعانبی کے علاقے میں ”اسلامی مغرب میں القاعدہ” نامی تنظیم کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہیں۔اسی علاقے میں گذشتہ سال جولائی میں جنگجوؤں کے ایک حملے میں آٹھ فوجی مارے گئے تھے۔گذشتہ ماہ حکام نے جبل الشعانبی اور اس کے نواحی پہاڑی علاقوں کو بند ملٹری زون قرار دے دیا تھا اور وہاں برسر پیکار دہشت گرد تنظیموں کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔
شمالی افریقہ میں واقع اس ملک میں گذشتہ سال دہشت گردی کے واقعات میں بیس سے زیادہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور مسلح افراد نے دو الگ الگ واقعات میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے دو سیاست دانوں کو قتل کردیا تھا۔ان واقعات کے بعد حزب اختلاف نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کردیے تھے جن کے نتیجے ملک سیاسی بحران سے دوچار ہوگیا تھا اور اسلامی جماعت النہضہ کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

50 minutes ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago