دومئی دوہزار چودہ کو زاہدان میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کا آغاز قرآنی آیت: ’’وما ارسلنا من رسول الا نوحی الیہ انہ لاالہ الا انا فاعبدون‘‘ کی تلاوت سے کیا۔
انہوں نے کہا: اللہ تعالی کو یہ بات بہت پسند ہے کہ اس کے بندے اسے یاد کریں اور اس کی نعمتوں اور صفات کا تذکرہ کریں۔ اللہ تعالی کے بہت ہی اچھے نام ہیں اور ہمیں ان ناموں کے ساتھ اللہ کو پکارنا چاہیے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے توحید کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: تمام آسمانی مذاہب وادیان تین اصول پر متفق ہیں؛ توحید، رسالت اور معاد۔ یہ اصول تمام آسمانی ادیان میں مشترکہ ہیں اگرچہ بعد میں بعض ادیان نے تحریف وگمراہی کی راہ اختیار کی۔ ان میں سب سے اہم توحید ہے اور رسالت ومعاد اسی کی جانب لوٹ جاتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: انبیائے کرام علیہم السلام نے سب سے پہلے اللہ رب العزت کی یگانگی اور توحید کی طرف لوگوں کو بلایا اور شرک وبت پرستی سے منع کیا۔ لہذا تمام عبادات اللہ کے لیے مخصوص ہیں، چاہے عبادتیں جانی ہوں یا مالی ! معبود صرف اللہ ہی ہے اور عبادت صرف اسی کی ہونی چاہیے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: صحیح اور درست عقیدے سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہوسکتی، اللہ کی وحدانیت پر ایمان رکھنا بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالی پوری کائنات کے خالق ہے۔ سب اللہ کے محتاج ہیں لیکن اللہ خود کسی بھی شی یا شخص کے محتاج نہیں ہے۔ اللہ تعالی سب کی آوازیں اور کسی بھی مقام میں موجود مخلوقات کی باتیں سنتاہے اور اس کا علم رکھتاہے۔
عبادت وبندگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا نے کہا: تمام انبیائے کرام، اولیا اور مقربان دربارالہی نے اللہ تعالی کی عبادت کی ہے۔ صحابہ کرام اور اہل بیت رضی اللہ عنہم اللہ کے عاشق تھے، انہوں نے دنیا کے بجائے نیک اعمال اور عبادات کو پسندکیا اوراعمال صالحات کے شیدائی ہوچکے تھے۔ ان کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق تھا۔ ہم دنیا کی خوبصورتیوں کے دلدادہ ہیں اور وہ روحانی خوبصورتیوں کو اہمیت دیتے تھے۔
خطیب اہل سنت نے اپنے بیان کے اس حصے کے آخر میں حاضرین کو حلال روزی کمانے کے ساتھ ساتھ آخرت کے لیے توشہ تیار کرنے کی ترغیب دی۔
فرقہ پرستوں کی مذموم کوششیں ناکام ہوں گی
ممتاز سنی عالم دین نے ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان میں بعض اندرونی انتہاپسند گروہوں کے مشکوک کردار پر تنقید کرتے ہوئے خوف وہراس پھیلانے کی ’مذموم کوششوں‘ کے انجام کو ناکامی و رسوائی قرار دیا۔
انہوں نے کہا: افسوس کا مقام ہے کہ آج مختلف اقوام میں اختلافات اپنے عروج پر ہیں۔ عالم اسلام میں بھی فرقہ وارانہ اختلافات اور سیاسی چپقلشیں شدت سے جاری ہیں۔ روز ہمیں المناک واقعات میں ایسے لوگوں کو دیکھنا پڑتاہے جو جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان سب کا سبب اندرونی وبیرونی دشمنوں کی سازشیں ہیں۔
شیخ الحدیث ومہتمم دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: ہمارے صوبے میں اتحاد وامن کی صورتحال بہت ہی مناسب ہے لیکن کچھ لوگ اپنے ذاتی یا گروہی مفادات کی خاطر یہاں فرقہ واریت کو ہوا دینا چاہتے ہیں؛ ان لوگوں کے لیے قومی امن سے زیادہ اہم ان کے ذاتی مفادات ہیں۔ یہاں ترقی اور خوشحالی بعض عناصر کے لیے ناقابل برداشت ہے، اسی لیے مختلف بہانوں سے عوام کو غصہ اور اشتعال دلایاجاتاہے ۔
عوام کو ہوشیاری وبیداری کی دعوت دیتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: ہمیں اپنے اتحاد و بھائی چارہ کا خیال رکھنا چاہیے، کسی کے اشتعال میں آکر ہمیں خطے کا امن تباہ نہیں کرنا چاہیے۔ سب کو چوکس رہنا چاہیے، بعض داخلی وخارجی عناصر بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ بدامنی ہی میں ان کی سیاسی حیات ہے۔
ممتازبلوچ عالم دین نے کہا: ہمارے خیال میں بلوچ اور غیر بلوچ میں کوئی تفریق نہیں ہے اور ہم سب کی بھلائی چاہتے ہیں۔ یہ کوئی پالیسی نہیں ہے بلکہ ہمارا عقیدہ ہے۔ جو لوگ سنی یا شیعہ کے لباس میں اپنے مخالفین کی توہین کرتے ہیں ان کا تعلق کسی بھی مسلک نہیں ہے۔ بعض لوگ اپنی مذموم حرکتوں سے انتشار وبدامنی پھیلانا چاہتے ہیں، بعض لوگ سرکاری محکموں کو گھس کر اپنی بھڑاس نکالتے ہیں اور عام لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔لہذا ہمیں ان سازشی عناصر کی ریشہ دانیوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…