الخلیل میں فلسطینی محکمہ اوقاف کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی حکام کی جانب سے مسجد ابراہیمی کے کلید بردار کو کہا گیا ہے کہ کل بدھ اور جمعرات کے روز مسجد کے وہ تمام دروازے بند رکھے جو فلسطینیوں کی آمد وردفت کے لیے کھولے جاتے ہیں تاکہ مسجد کے تمام حصوں میں یہودیوں کو کھلے عام گھومنے پھرنے کا موقع فراہم کیا جاسکے۔
فلسطینی محکمہ اوقاف نے مذہبی تہوار کی آڑ میں مساجد میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کو اسرائیل کی دانستہ اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مساجد اللہ کے گھر اور شعائر اسلام میں سے ہیں اور یہودی اپنے تہواروں کی آڑ میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی میں مخل ہو رہے ہیں۔
خیال رہے کہ سنہ 1994 ء میں مسجد ابراہیمی پر میں ایک انتہا پسند یہودی نے نمازیوں پر فائرنگ کرکے دو درجن سے زائد نمازیوں کو شہید کردیا تھا، جس کے بعد عملا مسجد ابراہیمی کو یہودیوں اور مسلمانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سنہ 1994 ء میں “شمگار” نامی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ یہودیوں کی مذہبی تقریبات کے دوران سال میں مسجد ابراہیمی کو کم سے کم 10 روز کے لیے بند کیا جاسکتا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…