یہ دھماکے دارالحکومت کے مضافات میں واقع ایک بس سٹیشن میں ہوئے۔
بی بی سی کے ہارونا تنگازا کے مطابق دھماکے اس وقت ہوئے جب مسافر اپنے اپنے کام پر جانے کے لیے بسوں اور ٹیکسیوں میں سوار ہو رہے تھے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد وہاں لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ شاید اسلامی شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے کیا ہے۔
ایک عینی شاید بدامسی نیانیا نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے 40 لاشیں دیکھی ہیں، جب کہ دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے امدادی کارکنوں اور پولیس کو انسانی اعضا اکٹھے کرتے ہوئے دیکھا۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق دھماکے سے نیانیا موٹر پارک میں 1.2 میٹر گہرا گڑھا پڑ گیا اور اس سے 30 گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔
ابوجا میں کام کرنے والی ایک عینی شاید میمی ڈینئل نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’میں بس کے آنے کا انتظار کر رہی تھی کہ میں نے دھماکے کی آواز سنی۔ دھماکے کے بعد افراتفری پھیل گئی اور لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔‘
ایک اور عینی شاید نے بی بی سی کو بتایا: ’میں نے اس سے پہلے کبھی بھی ایسا منظر نہیں دیکھا، وہ بہت ہی خوفناک منظر تھا۔ ہم پناہ کی تلاش میں بھاگے۔ ہم نے بہت سی لاشوں کو دیکھا۔‘
لاگوس میں بی بی سی کے نامہ نگار وِل روس کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے رواں برس ڈیڑھ ہزار سے زیادہ عام شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…