مولانا عبدالحمید نے ایران کی سنی برادری کے بعض مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ماضی میں ہمیں متعدد مسائل کا سامنا تھا جن میں مذہبی امتیازی سلوک اور ہمارے حقوق کی پامالی سرفہرست ہیں؛ ہم نے متعدد طرق سے حکام کو اپنی شکایت پہنچائی اور ہمیشہ وہ بات زبان پر لائی جو ہمارے خیال میں ملک وقوم کی خیر میں تھی۔ صدرروحانی کے انتخاب سے ہم بہت پرامید ہوگئے۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے سنی برادری کی حب الوطنی پر زور دیتے ہوئے کہا: ایرانی اہل سنت اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں اوراس کا ایک انچ بھی پوری دنیا سے سودا نہیں کرتے ہیں۔ ایران کی سنی برادری غدار نہیں ہے۔ ہم اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سالمیت اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہرقسم کی قربانی کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا: ہم قومی امن واتحاد کے خواہاں ہیں۔ ملک کی ترقی کا راز امن اور پائیدار اتحاد میں ہے۔ ہم سب کو امت واحدہ کی تشکیل کی کوشش کرنی چاہیے۔ مشترکہ عقائد ومسائل پر زور دے کر اختلافات پر انگلی رکھنے سے گریز کریں۔ انتہاپسندی چاہے شیعہ کی طرف سے ہو یا سنی کی، ہرصورت میں خطرناک ہے۔ انتہاپسندی سب سے زیادہ اس مذہب ومسلک کے پیروکاروں کے لیے مضر ہے۔
مولانا عبدالحمید نے مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات دور کرنے پر زورد یتے ہوئے کہا: آج کی دنیا میں جتنے بھی اختلافات ہیں، ان سب کا خاتمہ مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔ ہم صدر روحانی کے مغرب سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں؛ ایرانی قوم امن سے رہنا چاہتی ہے۔ ہم دنیا سے لڑائی و جھگڑے کے خواہاں نہیں ہیں۔اکثر اختلافات اور چپقلشوں کی جڑ قوموں اور اقلیتوں کے حقوق کی پامالی میں ہے؛ اگر تمام اقوام ومذاہب کے حقوق کا خیال رکھاجائے تو اختلافات کی بیخ کنی ممکن ہوگی۔
ممتاز سنی عالم دین نے سنی برادری کی صدارتی انتخابات میں صدرروحانی کے حق میں ووٹ دینے کو ان کے سیاسی شعور کی نشانی قرار دیا۔ انہوں نے کہا: سنی برادری نے صدر روحانی کے وعدوں اور افکار وخیالات کی وجہ سے انہیں منتخب کیا۔اب انہیں انتظار اس بات کی ہے کہ کب حکومت اپنے وعدوں کو پورے کرے گی۔ ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ پوری قوم کے حقوق یقینی بنائے جائیں۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے ایران کی مخلتف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے سنی طلبا کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اس سال بعض مشکلات ومسائل کی وجہ سے متعدد شخصیات اور دانشور حضرات کو اس اجتماع میں شرکت کا موقع نہیں ملا؛ ان شاءاللہ جلد حکام کے تعاون سے اس کمی کی تلافی کی جائے گی۔ نیز حکام کے اصرار پر اجتماع کا دورانیہ ایک دن کے بجائے آدھے دن تک محدود کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا: یہ سالانہ اجتماع گزشتہ کئی سالوں سے منعقد ہوتارہتاہے جس کا مقصد دینی وعصری جامعات کا اتحاد ہے۔ ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے اور یہاں صرف طلبا کو دینداری اور مزید علم حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ایسے اجتماعات کا فائدہ معاشرہ اور اسلامی نظام کو پہنچتاہے۔
مولانا عبدالحمید نے عصرحاضر کی مشکلات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا:اسلام دشمن قوتیں مختلف بہانوں اور حیلوں سے مسلمانوں کو گمراہی و تباہی کی جانب دکھیلتی ہیں۔ان کی کوشش یہی ہے کہ کسی طرح یہ بات سب کے ذہنوں میں بٹھادیں کہ اسلام پر عمل پیرا ہونا ناممکن ہے اور یہ دین دشوار ہے جو شراب نوشی، سودخوری، زنا اور دیگر ناجائز خواہشات کو حرام قرار دیتاہے۔
عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے مزیدکہا: موجودہ دور میں عالم اسلام سخت مشکلات سے دوچارہے؛ لیکن دوسری طرف دنیا میں اسلامی بیداری کی ایک لہر اٹھی ہے جو کئی عشرے قبل علامہ اقبال لاہوری، علامہ ندوی، سیدجمال الدین اسدآبادی اور سیدقطب جیسی شخصیات نے اس کا آغاز کیا تھا۔ اسی بیداری کے نتیجے میں ایران میں انقلاب ہوگیا اور اخیر سالوں میں مصر، تیونس، شام اور لیبیا جیسے ملکوںمیں بھی مسلم قومیں اٹھ کھڑی ہوگئیں۔
شیخ الاسلام نے کہا: آج کا انسان ترقی کا دعوی کرتاہے، لیکن انسان جتنی بھی ترقی حاصل کرے پھر بھی اسلام سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اگرچہ سیاست، معیشت، صنعت اور آزادی جیسے امور میں کافی ترقی حاصل ہوچکی ہے اور عوام آزاد ہیں، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ لوگ دینی واخلاقی لحاظ سے انحطاط اور پستی کا شکار ہیں۔ اسلام ایک کامل دین ہے جو ہر دور میں کسی بھی علاقے میںقابل عمل ہے۔ اگر اسلام پر پوری طرح اور درست عمل کیاجائے تو انسان کی کامیابی ورفاہ یقینی ہوجائے گی۔ اسلام میں آزادی اظہاررائے کا احترام کیاجاتاہے۔ حتی کہ ایک خاتون خلیفہ مسلمین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے کھڑی ہوکر اعتراض کرسکتی تھی اور ایک بدو اعرابی بھی آزادی کے ساتھ اپنا خیال پیش کرسکتاتھا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…