ملائیشیا: کوالالمپور سے بیجنگ جانے والا مسافر طیارہ ’لاپتہ‘

ملائیشیا کی قومی فضائی کمپنی کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کوالالمپور سے چین کے شہر بیجنگ جانے والا ایک مسافر طیارہ لاپتہ ہو گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس بوئنگ 777 طیارے پر دو شیرخوار بچوں سمیت 227 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار ہیں۔
چین کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے طیارے پر سوار مسافروں میں سے 160 چینی شہری ہیں۔
ملائیشیا ایئر لائن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم ایچ 370 نامی پرواز جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب رات دو بج کر 40 منٹ پر کوالالمپور کے ہوائی اڈے سے اڑی تھی اور اسے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے بیجنگ پہنچنا تھا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ پرواز کے دو گھنٹے بعد طیارے کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہوگیا اور وہ مقررہ وقت سے کئی گھنٹے بعد بھی منزلِ مقصود پر نہیں پہنچ سکا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملائیشیا ایئر لائن حکام کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے جنھوں نے طیارے کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ادھر چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا نے کہا ہے کہ لاپتہ ہونے والے طیارے سے ریڈار کا رابطہ ممکنہ طور پر ویتنام کی فضائی حدود میں منقطع ہوا۔
زنہوا کا کہنا ہے کہ مذکورہ طیارہ چین کی فضائی حدود میں داخل ہی نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے عملے نے چینی ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا۔
چین کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ چینی حکام طیارے کی تلاش کے عمل میں مدد کر رہے ہیں۔
ملائیشیا ایئر لائن ایشیا کی بڑی فضائی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور روزانہ اس پر 37 ہزار مسافر دنیا بھر میں 80 مقامات کا سفر کرتے ہیں۔

’سمندر میں تیل کے نشان‘
کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے ملائیشیا ائیر لائنز کے جہاز کو لاپتہ ہوئے چوبیس گھنٹے گزر چکے ہیں تاہم کثیر الملکی ٹیم جنوبی ویتنام کے سمندر میں اب بھی اس کی تلاش کر رہی ہے۔
ویتنام کے جہاز نے سمندر میں دو مقامات پر تیل کی چکنائی دیکھی ہے جو ممکنہ طور پر اس جہاز کی ہو سکتی ہے۔ تاہم اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔
جہاز پر سوار 227 مسافروں میں 153 افراد چین کے باشندے تھے جبکہ 38 کا تعلق ملائیشیا، سات انڈونیشیا، سات آسٹریلیا، پانچ بھارت سے اور چار کا تعلق امریکہ سے ہے۔
اطلاعات ہیں کہ جہاز کے مسافروں کی فہرست میں شامل دو افراد درحقیقت اس جہاز میں سوار ہی نہیں تھے جن میں ایک اٹلی اور ایک آسٹریلیا کا باشندہ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کے پاسپورٹ تھائی لینڈ میں چوری کر لیے گئے تھے۔
جہاز کی گمشدگی میں کسی قسم کی دہشت گردی کے امکان پر ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نجیب رزاق کا کہنا ہے کہ ’ہم تمام تر امکانات پر غور کر رہے ہیں ابھی اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ ‘
ملائیشیا چین اور دیگر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک اس مسافر طیارے کی تلاش میں مصروف ہیں۔
ملائیشیا کی قومی فضائی کمپنی ملائیشیا ایئر لائن کے مطابق اس بوئنگ 777 طیارے پر دو شیرخوار بچوں سمیت 227 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔
تلاش کا عمل ملائیشیا اور ویتنام کے درمیان واقع سمندر میں جاری ہے جس میں ویتنام، ملائیشیا اور چین کے حکام تعاون کر رہے ہیں۔
جنوبی چین کے سمندر میں جہںا یہ جہاز لاپتہ ہوا ہے وہ ایک متنازعہ سمندری علاقہ ہے تاہم اس وقت تنازع کو ایک طرف رکھتے ہوئے چین نے دو جہاز علاقے میں بھیجے ہیں۔ فلپائن نے بھی مسافر طیارے کی تلاش کے لیے ائیر فورس کے تین جہاز اور نیوی کے تین بحری گشتی جہاز بھیجے ہیں۔
اندھیرا ہونے کی وجہ سے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے تلاش کا عمل روک دیا ہے تاہم کشتیوں کی مدد سے یہ کارروائی جاری ہے۔
ملائیشیا ایئر لائن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ایم ایچ 370 نامی پرواز جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب رات دو بج کر 40 منٹ پر کوالالمپور کے ہوائی اڈے سے اڑی تھی اور اسے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے بیجنگ پہنچنا تھا مگر پرواز کے دوران یہ طیارہ لاپتہ ہو گیا تھا۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ پرواز کے دو گھنٹے بعد طیارے کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہوگیا اور وہ مقررہ وقت سے کئی گھنٹے بعد بھی منزلِ مقصود پر نہیں پہنچا جس کے بعد حکام نے اس کی تلاش شروع کر دی۔
ادھر ویتنام کے ریاستی میڈیا کے مطابق ویتنامی بحریہ کے ایک افسر نے اس بات کی تصدیق کی کہ گمشدہ طیارہ جنوب مشرقی چینی سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا ہے تاہم ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے کہا بتایا تھا کہ لاپتہ ہوتے وقت طیارے سے ریڈار کا رابطہ ممکنہ طور پر ویتنام کی فضائی حدود میں منقطع ہوا۔
ژنہوا کا کہنا تھا کہ مذکورہ طیارہ چین کی فضائی حدود میں داخل ہی نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے عملے نے چینی ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا۔
چین کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ اس طیارے پر سوار مسافروں میں سے 160 چینی شہری تھے۔
ملائیشیا ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹوو احمد جوہاری یحییٰ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ طیارے پر 14 قومیتوں کے مسافر شامل تھے اور ایئر لائن تمام مسافروں کے لواحقین سے رابطے کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پرواز کے کپتان ظہارے احمد شاہ تھے جنہوں نے 1981 میں ملیشیا ایئر لائن میں ملازمت اختیار کی۔
بوئنگ 777 طیاروں کی بیس سالہ تاریخ میں پہلا حادثہ جولائی 2013 میں اس وقت ہوا جب آسینا ایئر لائن کی ایک پرواز کو سان فرانسسکو کے ہوائی اڈّے پر ہنگامی لینڈگ کرنا پڑی تھی۔
ملائیشیا ایئر لائن ایشیا کی بڑی فضائی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور روزانہ اس پر 37 ہزار مسافر دنیا بھر میں 80 مقامات کا سفر کرتے ہیں۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago