جامعہ الازہر کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ”اللہ کے انبیاء،رسولوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کرداروں کو فلموں اور فلمی انداز میں پیش کرنا خلافِ اسلام ہے”۔
بیان میں اس کی مزید وضاحت کی گئی ہے کہ ”اس طرح کی پروڈکشنز عقیدے کے منافی اور اسلامی شریعت کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہیں۔ان سے لوگوں کے جذبات برانگیختہ ہوتے ہیں۔اس لیے جامعہ الازہر حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں آنے والی فلم کی ممانعت کا اعلان کرتی ہے”۔
اس نے مزید کہا ہے کہ”فلم میں حضرت نوح علیہ السلام کا ذاتی کردار پیش کیا گیا ہے۔اس طرح کسی نبی کا کردار پیش کرنا اسلامی شریعت میں ممنوع ہے اور یہ آئین میں وضع کردہ اسلامی قانون کے اصولوں کی بھی واضح خلاف ورزی ہے۔اس لیے الازہر مصری حکام پر زوردیتی ہے کہ وہ اس فلم پر پابندی لگادیں”۔
یہ فلم 28 مارچ کو ریلیز کی جارہی ہے۔اس سے پہلے مصر کی متعدد مسلم شخصیات نے حال ہی میں اس فلم پر کڑی تنقید کی ہے۔سلفی کال کے رکن شیخ سامح عبدالحمید نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پیغمروں کے کردار کو فن کے انداز میں پیش کرنا ایک جرم ہے۔اس طرح ان کے کرداروں پر تنقید کا دروازہ کھل جائے گا۔اداکار کبھی پیغمبروں کے کردار اور انداز کی ہوبہو نقالی یا تقلید نہیں کرسکتے ہیں”۔
فلم نوح کے ہدایت کار ڈیرن آرونفسکی ہیں اور اس میں آسکرایوارڈ جیتنے والے اداکار رسل کرو،جینیفر کونیلی ،انتھونی ہوپکنز نے کردار ادا کیا ہے۔اس میں حضرت نوح علیہ السلام کی حیات مبارکہ اور طوفان نوح کے واقعات کو فلم بند کیا گیا ہے اور حضرت نوح اپنے خاندان کو طوفان سے بچاتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔
عرب دنیا میں اس سے پہلے 2004ء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بنائی گئی فلم ”خدا کا بیٹا” بھی دکھائی جا چکی ہے لیکن تب عرب دنیا اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے حالات اور تھے۔اب عرب بہاریہ تحریکوں کے بعد صورت حال اور لوگوں کے رویوں میں جوہری تبدیلی رونما ہوچکی ہے اور اس کے پیش نظر تجزیہ کاروں کے نزدیک فلم کے خلاف سخت ردعمل کا امکان ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام