مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد نہ تو حکومتی کمیٹی نہ چودھری نثار نے رابطہ کیا ہے۔ نوشہرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف سی کے 23 اہلکاروں کی ہلاکت اور بمباری افسوسناک ہیں۔ طالبان کی پروفیسر ابراہیم اور یوسف شاہ سے ہونیوالی گفتگو کی رپورٹ مل گئی۔ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنا ہوگا۔ فوجی آپریشن اور جنگ مسائل کا حل نہیں۔ دریں اثناء اکوڑہ خٹک میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (س) کے امیر، دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم‘ طالبان مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں طالبان کے حکومتوں سے جھگڑے کی بنیاد آئین جمہوریت شریعت جیسے ایشوز نہیں، پاکستان کا اسلام دشمن سامراجی قوتوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہے۔ سب کو ملکر اس تباہی، بربادی، دہشت گردی اور ایک دوسرے کو قتل کرنے کے محرکات اور اصل عوامل پر غور کرنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نہتے شہریوں پر بمباری سے احتراز کرے، ایسے اقدامات سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید تباہی کا باعث بنیں گے۔ میں اللہ اور رسولؐ کے نام پر حکومت اور طالبان سے فوری جنگ بندی کی اپیل کرتا ہوں۔ جنگ بندی کسی ایک فریق نہیں دونوں فریقوں کا کام ہوتا ہے۔ مغرب کی اسلام دشمن قوتیں، لبرل اور سیکولر مسلم دانشور حکام اور سیاستدان‘ طالبانائزیشن کی آڑ میں اسلام سے اپنی نفرت‘ بغض اور خبث باطن کا اظہار کر رہے ہیں، طالبان کو گالی دیکر اسلام کا مذاق اڑانا روشن خیالوں کا فیشن بن گیا ہے۔ وہ دارالعلوم حقانیہ کے ’’ایوان شریعت‘‘ ہال میں منعقدہ تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ مولانا سمیع الحق نے خصوصی خطاب میں عالم اسلام اور باالخصوص دینی مدراس اوراس میں پڑھائے جانیوالے اسلامی علوم کو عالم کفر کی طرف سے درپیش چیلنجوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اورکہا کہ ان چیلنجوں کا نشانہ مسلم امہ کے جرنیل‘ حکمران، سیاسی پارٹیوں اور نام نہاد جمہوری اداروں کے پارلیمنٹ اور اسمبلیاں نہیں ہیں کیونکہ یہ سب اسلام دشمن قوتوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان سے دشمن کو خطرہ نہیں جبکہ انکا اصل نشانہ دینی مدارس کا نظام اور نصاب تعلیم ہے۔ یہ مدارس دہشت گردی اور انتہاپسندی نہیں بلکہ اسلام کے امن و سلامتی پر مبنی تعلیمات پھیلا رہے ہیں اور عالمی دہشت گرد ان تعلیمات کو اپنے مذموم مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ مولانا سمیع الحق نے کہاکہ اسلام کے فطری اصولوں کی وجہ سے اور دشمن کی واویلا اور پروپیگنڈا کی وجہ سے لوگ اسلام کی طرف بڑی تیزی سے راغب ہو رہے ہیں، دشمن کے دبانے سے یہ مزید ابھرتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر بڑی طاقتوں کی غلامی سے نکل کر موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی کرلے اور عسکریت پسندوں سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرلے تو آج ہی دہشت گردی کے سارے واقعات ختم ہوسکتے ہیں۔ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی بڑھکیں ماری جارہی ہیں جبکہ مسئلہ کا واحد اور آخری حل غیروںکے مفادات کیلئے جاری جنگ سے علیحدگی ہے اورپارلیمنٹ کی قراردادیں اس سلسلہ میں واضح رہنمائی کررہی ہیں۔ اگر ہمارے حکمرانوں نے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کی تو آئندہ ملک کا کوئی بھی حصہ امریکی حملوں کی زد میں آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی کر لے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کر لے تو دہشت گردی کے سارے واقعات ختم ہو سکتے ہیں۔ حکومت بڑی طاقتوں کی غلامی سے نکل کر عسکریت پسندوں سے مذاکرات کا راستہ اختیار کر لے تو دہشت گردی کے سارے واقعات ختم ہو سکتے ہیں، سازشی عناصر ملک کے امن کو تباہ کرنے میں مصروف ہیں۔جنگ سے مسائل حل نہیں ہونگے، حالات مزید بگڑیں گے، ملک کو نازک صورتحال سے نکالنے کا واحد حل مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے، حکومت کو دوسروں کے مفادات کی جنگ سے نکل کر اپنے مفادات کا سوچنا چاہئے۔ دوسری طرف بھی بمباری سے کافی نقصان ہو چکا ہے، ڈیڈلاک ختم کرنے کیلئے کردار ادا کرتے رہیں گے۔
پشاور (بیورو رپورٹ +نوائے وقت نیوز + آن لائن) جماعت اسلامی کے رہنما اور طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ انکا طالبان کے ساتھ رابطہ ہوا ہے طالبان فوجی کارروائی کے بعد بھی کامیاب مذاکرات چاہتے ہیں لیکن حکومت مذاکرات میں سرد مہری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ پروفیسر ابراہیم نے تحریک طالبان شوریٰ کے رکن اعظم طارق سے رابطہ کیا ہے جس میں اعظم طارق نے حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کی بات بعد میں کرینگے پہلے سنجیدگی سے مذاکرات کئے جائیں طالبان مذاکرات کے ذریعے ملک میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں جس پر پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ طالبان کمیٹی کی کوشش ہے کہ معاملات مفاہمت سے حل ہوجائیں۔ طالبان سے رابطے کے بعد پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ طالبان اب بھی سنجیدہ ہیں اور کامیاب مذاکرات کے حق میں ہیں لیکن حکومت اس حوالے سے سرد مہری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکا رابطہ حکومتی کمیٹی سے بھی ٹی وی چینلز پر ہوتا ہے۔ ایسے میں معاملات کس طرح آگے بڑھ سکتے ہیں۔ حکومت آئین پر عمل کرے تو طالبان کو آئین تسلیم کرنے کیلئے ہم راضی کر لیں گے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ حکومت کو مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرنا چاہئے۔ حکومت آئین اور طالبان قرآن و سنت کو مانتے ہیں۔ حکومت آئین پر عمل کرے تو طالبان کو آئین تسلیم کرنے کے لئے ہم راضی کرلیں گے۔ حکومت سرد مہری کا مظاہرہ کر رہی ہے ہم طالبان نہیں صرف کمیٹی کے ارکان ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ اگر آپریشن ہوا تو ملک بھر میں دہشت گردی پھیلے گی۔ اس سے پہلے مذاکرات بحال کرنے چاہئیں۔ لگتا ہے حکومت اور فوج نے آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آپریشن ہوا تو لاکھوں افراد نقل مکانی کریں گے، ہزاروں ہلاکتیں ہوں گی۔ مذاکرات جاری رہتے تو دہشت گردی کی روک تھام ہو سکتی تھی۔ مذاکرات میں ڈیڈ لاک کی وجہ سے صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ پہلے مذاکرات کا عمل مکمل کیا جائے اسکے بعد آئین پر بات کی جائے۔ لگتا ہے حکومت اور فوج نے آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہے آپریشن سے لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہونگے ملک بھر میں دہشت گردی بڑھے گی، اب بھی چاہتے ہیں کہ مذاکرات ہوں اور امن قائم ہو مگر شاید حکومت اس کیلئے تیار ہیں طالبان حکومت سے امن مذاکرات چاہتے ہیں۔ آپریشن مسئلے کا حل نہیں اس سے مزید خون بہے گا ہم نہ طالبان ہیں نہ ان کا حصہ طالبان نے پابندیوں کی وجہ سے مذاکرات کیلئے نامزد کیا ہے۔ وزیر داخلہ نے فوج کو اختیار نہیں دیا فوج پہلے سے بااختیار ہے حکومتی کمیٹی کو اختیار نہیں کہ وہ کسی سے ملاقات کر سکے ٹل میں شیلنگ سے خواتین اور بچوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ طالبان رہنما اعظم طارق سے رابطہ ہوا ہے اعظم طارق قرآن و سنت کی روشنی میں مذاکرات کیلئے تیار ہیں گزشتہ چار سال سے 32 سکیورٹی اہلکار لاپتہ ہیں اگر کچھ لوگوں کو آپریشن کا شوق ہے تو وہ اپنا شوق پورا کر لیں آپریشن مسئلے کا حل نہیں۔ حکومت مذاکرات آگے بڑھانے میں سرد مہری کا مظاہرہ کر رہی ہے، دونوں فریق ایک بار پھر بیٹھ جائیں تو مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھ سکتا ہے۔
نوائے وقت
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…