غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کی پارلیمنٹ نے ہنگامی اجلاس کے دوران قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا ہے کہ صدر وکٹر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں اورانہیں برطرف کرکے 25 مئی کو نئے انتخابات کرائے جائیں،اس موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس اور صدارتی محل کے باہر مظاہرین کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ اس دوران صدارتی محل کی سیکیورٹی پر مامور اہلکار بھی غائب تھے جس کے باعث سیکڑوں مظاہرین صدارتی محل کے اندر داخل ہوگئے۔
مظاہرین کے شدید احتجاج کے باعث صدر وکٹر روسی سرحد سے متصل علاقے خرکیف منتقل ہوچکے ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ صدر دارالحکومت کیف میں ہی محفوظ مقام پر ہیں، سرکاری ٹی وی پر اپنے ریکارڈ کئے گئے خطاب میں صدر وکٹر کا کہنا تھا کہ وہ ملک کے آئینی صدر ہیں اور اپنے عہدے سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ملک میں انارکی پیدا کرکے بغاوت جیسے حالات پیدا کرنا چاہتی ہے، صدر کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ حکومت مخالف مظاہروں میں اپوزیشن کے حامی ڈکیتی اور چوری اور دیگر وارداتیں کرکے صرف اورصرف شہریوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 21 فروری کو صدر اور اپوزیشن کے درمیان یورپی یونین کے 2 وزرائے خارجہ کی موجودگی میں ایک معاہدہ طے پایا تھا کہ جس کے تحت صدر وکٹر نے ملک میں قبل ازوقت انتخابات کرانے پر رضامندی کے ساتھ اپنے اختیارات میں بھی کمی کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے باوجود مظاہرین ان کے فوری استعفیٰ دینے کے مطالبے پر قائم رہے۔
ایکسپریس نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…