عراقی صوبہ صلاح الدین میں مسلح افراج نے علی الصباح عراقی پولیس کی متعددچیک پوسٹوں پرحملے کیے جس کے نتیجے میں شدید لڑائی میں 4 پولیس اہلکارہلاک اور6 زخمی ہوگئے۔ مقامی حکام نے کرفیولگاکرتازہ دم نفری کے آنے پرجنگجوئوں کے پیچھا کرنے کے لیے آپریشن شروع کردیا۔ تکریت میں مسلح افرادنے2 پولیس افسروں کے گھردھماکے سے اڑا دیے جس میں ایک پولیس اہلکار اور 2 شہری ہلاک اور 17 زخمی ہو گئے۔ صوبہ دیالہ میں مسلح افراد نے رات کے وقت ریپڈ ری ایکشن پولیس فورس کی بیس پر حملہ کر کے 6 پولیس اہلکاروں کو ہلاک‘ 6 کو زخمی کر دیا جبکہ جوابی کارروائی میں 4 مسلح افراد بھی ہلاک ہوئے‘ بیس کاکمانڈر عدنان فاروق اور ایک اعلیٰ پولیس افسر بھی ہلاک شدگان میں شامل ہیں، اس واقعے میں 6مسلح افراد کوگرفتار کر لیا گیا۔
بغداد کے علاقے تاجی میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے 2 مسلح افراد ہلاک ہو گئے۔ ادھر صوبہ انبار میں حکومتی کنٹرول وزیراعظم نوری المالکی کیلیے چیلنج بنا ہوا ہے جبکہ وزارت دفاع کے ایک بیان کے مطابق فلوجہ میں 72 گھنٹوں کیلیے القاعدہ شدت پسندوں کیخلاف ٹارگٹڈ آپریشن روک دیا گیا ہے، ایسا لوگوں کی طرف سے امن کی اپیل پر کیا گیا ہے۔ این این آئی کے مطابق عراقی سرکاری افواج نے ملک کے شمالی قصبے سلیمان بیک کا کنٹرول ایک ہفتے کے بعد عسکریت پسندوں سے واپس لے لیا۔
ایکسپریس نیوز
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید