ترجمان تحریک طالبان شاہد اللہ شاہد اور جنوبی وزیرستان کے طالبان کے ترجمان، سیاسی شوریٰ کے رکن اعظم طارق نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ نامعلوم مقام پر شاہد اللہ شاہد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے کہا کہ جنگ بندی کا اعلان ہم کیسے کر سکتے ہیں حکومت ہمارے خلاف لڑ رہی ہے۔ پہلے حکومت جنگ بندی کا اعلان کرے حکومت کہتی ہے کہ مٹھی بھر گروہ کے خلاف جنگ بندی کیسے کی جا سکتی ہے، جنگ بندی نہیں کی جاسکتی تو حکومت مٹھی بھر لوگوں کے ساتھ مذاکرات کیسے کرسکتی ہے، ہماری جنگ کئی سال سے جاری ہے۔ مذکرات شروع ہونے کے بعد ہمارے کئی ساتھیوں کو مارا گیا، آئین کو نہیں مانتے اگر مانتے تو دس سال سے جنگ کیوں کرتے؟ آئین میں ایک بھی شق اسلامی نہیں، حکومت جنگ بندی کا اعلان کرے پھر سیز فائر پر غور کریں گے۔ شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ کوئی مانے یا نہ مانے قرآن اور احادیث مکمل آئین ہیں۔ آئین میں ایک جزو بھی اسلامی نہیں۔ ہم مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ حکومت مذاکرات کے ذریعے ہم سے آئین منوانا چاہتی ہے ادھر حکومتی کمیٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان نے اپنی کمیٹی پر ہی عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے۔ طالبان کا یہ کہنا کہ آئین میں ایک جزو بھی اسلامی نہیں۔ طالبان کمیٹی نے پہلے اعلامیے میں آئین کے تحت مذاکرات پر اتفاق کیا تھا۔ شاہد اللہ شاہد نے کہا ہے کہ آئین میں ایک جزو بھی اسلامی نہیں، کوئی مانے یانہ مانے، قرآن اور احادیث مکمل آئین ہیں۔ حکومت مذاکرات کے ذریعے ہم سے آئین منوانا چاہتی ہے ٗ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ جنگ حکومت نے شروع کی جنگ بندی میں بھی حکومت کو ہی پہل کرنی چاہئے۔ ہم صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں، جعلی پولیس مقابلوں میں ہمارے ساتھیوں کو مارنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ ہم مذاکرات کیلئے پہلے بھی سنجیدہ تھے اور اب بھی سنجیدگی سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تاہم حکومتی کمیٹی ہماری نامزد کردہ کمیٹی سے ملاقات کرنے سے مسلسل انکار کر رہی ہے، ہم مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ ہم آئین صرف قرآن اور حدیث کو تسلیم کرتے ہیں چاہے کوئی مانے یا نہ مانے۔ طالبان دفاعی جنگ لڑ رہے ہیں اور اسے حکومت نے شروع کیا اب جنگ بندی کا اعلان بھی حکومت کرے۔ حکومت طالبان کی مذاکراتی ٹیم سے ملنے کیلئے انکاری ہے جبکہ دوسری طرف حکومت مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر طالبان کے کارکنوں پر حملے کرکے پے در پے مار رہی ہے، گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان نے ایک بار پھر حکومت کو پیشکش کی کہ حکومت اگر طالبان کارکنوں کو مارنا اور گرفتاریاں بند کردے تو پھر مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ آئی این پی کے مطابق شاہد اللہ شاہد اور طارق اعظم نے کہا ہے کہ حکومت سے مذاکرات امیر ملا فضل اللہ کی اجازت اور رہنمائی میں ہو رہے تھے۔ ملا فضل اللہ افغانستان نہیں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہیں‘ 23 ایف سی اہلکاروں کا قتل جیلوں سے نکال کر مارے گئے ہمارے 70 ساتھیوں کے قتل کا ردعمل ہے‘ پاکستان کے خلاف ہماری جنگ دفاعی ہے‘ ہمیں پاکستان کے بیشتر علماء کی حمایت حاصل ہے جنہوں نے ہمارے حق میں فتوے جاری کئے ہیں‘ جو نااہل حکومت آج تک یہ نہیں جان سکی کہ حسین حقانی نے بلیک واٹر کو کتنے ویزے جاری کئے وہ ٹی ٹی پی کے بارے میں عوام کو کیا بتائیگی۔ سرکاری مذاکراتی کمیٹی کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے۔ قبائلی علاقوں پر حکومتی بمباری کی مذمت کرتے ہیں اس سے واضح ہے کہ حکومت مذاکرات نہیں کرنا چاہتی۔ ٹی ٹی پی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ہر مسئلہ کا حل مذاکرات میں مضمر ہے‘ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں۔ ہم صرف قرآن و حدیث اور شریعت کے نفاذ پر یقین رکھتے ہیں جسے 14 سو سال پہلے اللہ کے رسولؐ نے نافذ کیا تھا۔ اس سوال پر کہ آپ رائے عامہ کو ہموار کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں کیوں نہیں آتے تاکہ قوانین بنا سکیں تو طالبان رہنمائوں نے کہا کہ ہمیں قرآن و حدیث کے نفاذ کیلئے رائے عامہ ہموار کرنے کی ضرورت نہیں اس کے نفاذ کیلئے ہمارا مطالبہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت سے ہے امریکہ سے نہیں۔ اگر ہمارے مذاکرات امریکہ سے ہو رہے ہوتے تو پھر ہم یہ مطالبہ نہ رکھتے۔ ٹی ٹی پی ترجمان نے کہاکہ حکومت سے مذاکرات امیر ملا فضل اللہ کی اجازت اور ان کی رہنمائی میں ہو رہے تھے۔ 23 اہلکار قتل کرنے کا کالعدم تحریک طالبان مہمند کا اپنا فیصلہ تھا نہ تو اس کیلئے انہوں نے طالبان کی سیاسی شوریٰ سے مشورہ کیا نہ ہی شوریٰ نے انہیں کوئی ایسی اجازت دی تھی۔ اس سوال پر کہ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کوئی کہتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے 70 گروپ ہیں کوئی 30 اور کوئی 40 بیان کرتا ہے‘ ایک گروپ احرار الہند امن مذاکرات کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو طالبان رہنمائوں نے کہاکہ نہ تو ہم کسی احرار الہند کو جانتے ہیں نہ ہی طالبان کے 70 گروپ ہیں یہ پروپیگنڈا ہے۔ قبائلی علاقوں مین 10 سال سے جاری جنگ صرف اور صرف امریکہ کو خوش کرنے کیلئے او رڈالروں کے حصول کیلئے جاری ہے۔ طالبان رہنمائوں نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کمیٹی کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے ہی مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے۔ انہوں نے قبائلی علاقوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ لوگوں کو بمباری کر کے مارا جا رہا ہے او راس سے واضح ہو گیا کہ حکومت مذاکرات کیلئے سنجیدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحصیل میر علی اور تحصیل شوال میں پاکستانی جیٹ طیاروں نے غیر سنجیدگی کا ثبوت دیا ہے۔حکومت امن مذاکرات میں سنجیدہ نہیں پھر بھی ہم امن مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔شمالی وزیرستان ایجنسی میں شوریٰ وزیرستان کے امیر حافظ گل بہادر نے حکومت کے ساتھ جو امن معاہدہ کیا ہے ان کی ہم مکمل طور پر پاسداری کرتے ہیں۔ حکومتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے لئے ہماری کمیٹی کو مکمل اختیار ہے۔ تحریک طالبان پاکستان منظم تنظیم ہے۔ اس میں کسی قسم کے اختلافات ہے نہ پیدا ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف جواب دیں کہ وہ طالبان کیساتھ مذاکرات کرنے کے موڈ میں ہیں یا نہیں۔ امن مذاکرات صرف اور صرف مذاق ہے۔ حکومت ایک طرف امن مذاکرات کرنے کا دعویٰ کررہی ہے دوسری طرف کراچی سے لیکر پشاور تک ہمارے زیر حراست ساتھیوں کی بوری بند نعشیں سڑکوں پر پھینک رہی ہے۔ پاکستان میں ہم صرف اور صرف شریعت محمدی کا آئین مانتے ہیں۔ اعظم طارق محسود نے کہا کہ 10سال پہلے حکومت پاکستان نے ہمارے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا۔پہلے ان کو چاہئے کہ سیز فائر کرے پھر ہم سیز فائر پر راضی ہوجائیں گے۔ یہ دفاعی جنگ ہے آخر دم تک جاری رہے گی۔ ہم نے اپنی شرائط حکومتی کمیٹی کودی ہیں اور میڈیا کو بھی پیش کی ہیں لیکن جواب میں حکومت نے آئین پاکستان کو ماننے کی شرط رکھی ہے لیکن آئین غیر اسلامی ہے اور اس کی ایک جز بھی اسلامی نہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ہمارے زیر حراست چھوٹے بچوں خواتین اور بوڑھے افراد کو بغیر کسی شرط کے رہا کرے اور مذاکرات کے لئے ایک مخصوص جگہ خالی کرے۔ ہمارے دروازے امن مذاکرات کے لئے کھلے ہیں۔ہمارے ساتھیوں کی بوری بند نعشیں پھینکنے اور چھاپے مارنا بند کردیں۔ شکیل آفریدی سب سے بڑا مجرم ہے۔ پولیو وائرس کی بجائے ڈرون حملہ میں نقصان زیادہ ہوا۔ پولیو قطرے پلانے پر ہمارے تحفظات ہیں۔
نوائے وقت
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…