سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق’حجت الاسلام علی یونسی‘ نے مقامی اخبار ’اعتماد‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے: ایران میں کوئی علیحدہ پسند تحریک نہیں ہے؛ غیرفارسی اقوام کو علیحدہ پسند کہنا جھوٹ کا پلندہ ہے۔
انہوں نے کہاہے: ذاتی طور بعض (شیعہ) علماء سے ملاقاتیں کرکے مجھے معلوم ہواہے اقلیتوں اور اہل سنت کے بارے میں مبالغہ آمیز اور جھوٹی رپورٹس جان بوجھ کر انہیں پہنچائی جارہی ہے۔ جس طرح دعوا کیاجاتاہے کہ ایران میں ’وہابیت‘ پھیل رہی ہے، اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بعض لوگ اہل سنت سے دشمنی کرتے ہیں، یہ لوگ نہیں کہہ سکتے ہمیں سنیوں سے دشمنی ہے تو اپنی سرگرمیاں’وہابیت‘ اور ‘سلفیت‘ جیسے الفاظ کے آڑ میں جاری رکھتے ہیں۔
اس سے قبل علی یونسی نے اہل سنت سمیت دیگر مذاہب ومسالک کے حقوق یقینی بنانے پر زور دیاتھا۔ سابق وزیرانٹیلیجنس اصلاح پسند صدر محمدخاتمی کے قریبی دوست اور اعتدال پسند صدر روحانی کے مشیرخاص برائے مسالک ومذاہب اور اقلیتی امور ہیں۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید