سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق’حجت الاسلام علی یونسی‘ نے مقامی اخبار ’اعتماد‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے: ایران میں کوئی علیحدہ پسند تحریک نہیں ہے؛ غیرفارسی اقوام کو علیحدہ پسند کہنا جھوٹ کا پلندہ ہے۔
انہوں نے کہاہے: ذاتی طور بعض (شیعہ) علماء سے ملاقاتیں کرکے مجھے معلوم ہواہے اقلیتوں اور اہل سنت کے بارے میں مبالغہ آمیز اور جھوٹی رپورٹس جان بوجھ کر انہیں پہنچائی جارہی ہے۔ جس طرح دعوا کیاجاتاہے کہ ایران میں ’وہابیت‘ پھیل رہی ہے، اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بعض لوگ اہل سنت سے دشمنی کرتے ہیں، یہ لوگ نہیں کہہ سکتے ہمیں سنیوں سے دشمنی ہے تو اپنی سرگرمیاں’وہابیت‘ اور ‘سلفیت‘ جیسے الفاظ کے آڑ میں جاری رکھتے ہیں۔
اس سے قبل علی یونسی نے اہل سنت سمیت دیگر مذاہب ومسالک کے حقوق یقینی بنانے پر زور دیاتھا۔ سابق وزیرانٹیلیجنس اصلاح پسند صدر محمدخاتمی کے قریبی دوست اور اعتدال پسند صدر روحانی کے مشیرخاص برائے مسالک ومذاہب اور اقلیتی امور ہیں۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام