سرکاری حکام اور مقامی رہائشیوں کے مطابق القاعدہ نے اپنی پوزیشن فوجی محاصرے کے باوجود مستحکم کر لی ہے۔
عسکریت پسند فوجی محاصرے کے دوران ہی شہر میں اپنی نفری بڑھانے اور اسلحے میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ القاعدہ اپنے قبائلی اتحادیوں کی مدد سے فلوجہ کیساتھ ساتھ صوبہ انبار کے اہم شہر رمادی میں بھی یکم جنوری سے عملی طور پر سرکاری سکیورٹی فورسز پر حاوی ہو چکے ہیں۔
وزیر اعظم نوری المالکی جو تیسری مدت کیلیے تین ماہ بعد پارلیمانی انتخاب میں جانے والے ہیں نے ان شہروں کے گرد فورسز کی تعیناتی کر دی ہے۔ ان فورسز میں ٹینکوں سے متعلق ڈویژن بھی شامل ہیں۔ اگرچہ حکومت بھر پور فوجی آپریشن کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہیں۔
نوری المالکی کے مطابق جمعرات کے روز تک سرکاری فوج کے 80 اہلکار ہلاک ہو چکے تھے۔ عراقی حکومت کے ذرائع کے مطابق فلوجہ میں عسکریت پسندوں کی تعداد صرف پچھلے چند دنوں میں 400 سے تجاوز کر چکی ہے جن کے پاس طیارہ شکن بندوقیں بھی موجود ہیں۔
فلوجہ میں آنے والے زیادہ تر عسکریت پسندوں کی تعداد فلوجہ کی جنوبی اطراف سے آئی ہے۔ یہ علاقے زیادہ تر قبائل کے کنٹرول میں ہیں۔ قبائلی رہنما محمد البجاری نے فون پر بتایا ”فلوجہ کے اردگرد پھیلے عسکریت پسند حکومت کے لیے ذرہ بھر پسندیدگی یا برداشت نہیں رکھتے ہیں، سرکاری فوج ان علاقوں میں کسی چیز پر کنٹرول نہیں رکھتی اور نہ ہی کسی راستے پر اس کا کنٹرول ہے۔
واضح رہے القاعدہ سے منسلک دولت اسلامیہ عراق و شام “آئی ایس آئی ایل” نامی گروپ شام میں بھی جارحانہ انداز اخیتار کیے ہوئے ہے۔ عراق میں یہ گروپ سنی مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کی پوزیشن دن بدن بہتر ہو رہی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) عصر حاضر کی ایک نہایت اہم اور تیزی سے ترقی کرنے…
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔