غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حامدکزرئی حکومت کے 2 وزراء نے متحدہ عرب امارات میں طالبان رہنماؤں سے خفیہ ملاقات کی جس میں قیدیوں کی رہائی اور افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے علاوہ امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کے حوالے سے دیگر اہم معاملات بھی زیر بحث آئے۔ طالبان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ طالبان قیادت ملک میں امن کے لئے مذاکرات کے لئےتیار ہے تاہم طالبان کمانڈرز کی ایک بڑی تعداد بات چیت کے مخالف ہے جب کہ نئی نسل کے کمانڈرافغانستان پردوبارہ کنٹرول کے لیے پر اعتماد ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ 1989 کی طرز پر بالواسطہ ثالثی قبول کرنے کےلیے تیار ہیں جب کہ طالبان اور دیگر حکومت مخالف جنگجو اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد لڑائی کی بھر پور تیاری کر رہے ہیں۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار