غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حامدکزرئی حکومت کے 2 وزراء نے متحدہ عرب امارات میں طالبان رہنماؤں سے خفیہ ملاقات کی جس میں قیدیوں کی رہائی اور افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے علاوہ امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کے حوالے سے دیگر اہم معاملات بھی زیر بحث آئے۔ طالبان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ طالبان قیادت ملک میں امن کے لئے مذاکرات کے لئےتیار ہے تاہم طالبان کمانڈرز کی ایک بڑی تعداد بات چیت کے مخالف ہے جب کہ نئی نسل کے کمانڈرافغانستان پردوبارہ کنٹرول کے لیے پر اعتماد ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ 1989 کی طرز پر بالواسطہ ثالثی قبول کرنے کےلیے تیار ہیں جب کہ طالبان اور دیگر حکومت مخالف جنگجو اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد لڑائی کی بھر پور تیاری کر رہے ہیں۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…