غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حامدکزرئی حکومت کے 2 وزراء نے متحدہ عرب امارات میں طالبان رہنماؤں سے خفیہ ملاقات کی جس میں قیدیوں کی رہائی اور افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے علاوہ امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کے حوالے سے دیگر اہم معاملات بھی زیر بحث آئے۔ طالبان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ طالبان قیادت ملک میں امن کے لئے مذاکرات کے لئےتیار ہے تاہم طالبان کمانڈرز کی ایک بڑی تعداد بات چیت کے مخالف ہے جب کہ نئی نسل کے کمانڈرافغانستان پردوبارہ کنٹرول کے لیے پر اعتماد ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ 1989 کی طرز پر بالواسطہ ثالثی قبول کرنے کےلیے تیار ہیں جب کہ طالبان اور دیگر حکومت مخالف جنگجو اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد لڑائی کی بھر پور تیاری کر رہے ہیں۔
ایکسپریس نیوز
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام