ذرائع ابلاغ کے مطابق نماز جمعہ کے بعد معزول صدر مرسی کے ہزاروں حامی سڑکوں پر نکل آئے جو فوجی حکومت کے خلاف نعرے بازی اور مرسی کی بحالی کا مطالبہ کررہے تھے۔ اسی دوران مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں ہوئیں جن میں 3 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ اسکندریہ میں دونوں گروپوں میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک پھیری والا ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کرنیوالا شخص اخوان المسلمون کا کارکن ہے اور اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر 25 مظاہرین کو بھی اسی جگہ سے گرفتار کیا گیا۔ سویز شہر میں مرسی کے حامیوں ، مخالفین اور فورسز میں جھڑپیں ہوئی جس میں 2 افراد ہلاک ہوگئے۔ وزارت داخلہ کے مطابق پولیس نے پورے ملک میں اخوان المسلمون کے 169 مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…