تیونس کی سرکاری خبررساں ایجنسی تیپ نے ان کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ انھیں لیبیا کے شہر مصراتہ سے امریکی میرینز اور مقامی سکیورٹی فورسز نے پکڑا ہے۔ سیف اللہ بن حسین اپنی کنیت ابوعیاض سے زیادہ معروف ہیں اور وہ ماضی میں افغانستان میں امریکا کی اتحادی فوجوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لے چکے ہیں۔ انھوں نے القاعدہ کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کیا تھا۔ ان پر ستمبر 2012 میں لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کی شہ دینے کا بھی الزام ہے۔اس حملے میں امریکی سفیر سمیت چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ لیبیا میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بن غازی اور دوسرے شہروں میں متعدد کار بم دھماکے ہوچکے ہیں اور فوج اور پولیس کے افسروں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ القاعدہ سے وابستہ جنگجو تنظیم انصارالشریعہ پر ہی ان بم دھماکوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
اردو ٹائمز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…