تیونس کی سرکاری خبررساں ایجنسی تیپ نے ان کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ انھیں لیبیا کے شہر مصراتہ سے امریکی میرینز اور مقامی سکیورٹی فورسز نے پکڑا ہے۔ سیف اللہ بن حسین اپنی کنیت ابوعیاض سے زیادہ معروف ہیں اور وہ ماضی میں افغانستان میں امریکا کی اتحادی فوجوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لے چکے ہیں۔ انھوں نے القاعدہ کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کیا تھا۔ ان پر ستمبر 2012 میں لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کی شہ دینے کا بھی الزام ہے۔اس حملے میں امریکی سفیر سمیت چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ لیبیا میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بن غازی اور دوسرے شہروں میں متعدد کار بم دھماکے ہوچکے ہیں اور فوج اور پولیس کے افسروں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ القاعدہ سے وابستہ جنگجو تنظیم انصارالشریعہ پر ہی ان بم دھماکوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
اردو ٹائمز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…