تیونس کی سرکاری خبررساں ایجنسی تیپ نے ان کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ انھیں لیبیا کے شہر مصراتہ سے امریکی میرینز اور مقامی سکیورٹی فورسز نے پکڑا ہے۔ سیف اللہ بن حسین اپنی کنیت ابوعیاض سے زیادہ معروف ہیں اور وہ ماضی میں افغانستان میں امریکا کی اتحادی فوجوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لے چکے ہیں۔ انھوں نے القاعدہ کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کیا تھا۔ ان پر ستمبر 2012 میں لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کی شہ دینے کا بھی الزام ہے۔اس حملے میں امریکی سفیر سمیت چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ لیبیا میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بن غازی اور دوسرے شہروں میں متعدد کار بم دھماکے ہوچکے ہیں اور فوج اور پولیس کے افسروں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ القاعدہ سے وابستہ جنگجو تنظیم انصارالشریعہ پر ہی ان بم دھماکوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
اردو ٹائمز
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…