اسرائیلی حکومت نے ان قیدیوں کی رہائی کی منظوری سینیچر کو دی تھی مگر ان کی رہائی میں 48 گھنٹوں کی تاخیر کی گئی تاکہ متاثرین اگر قانونی اپیل کرنا چاہیں تو انہیں موقع مل سکے۔
ان قیدیوں نے 1993 سے قبل قتل یا اقدام قتل جیسے جرائم کیے تھے اور یہ 19 سے 28 سال کی جیل کاٹ چکے تھے۔
یہ ان 104 قیدیوں کی تیسرا حصہ ہیں جنہیں آزاد کیے جانے کی اسرائیل نے یقین دہانی کروائی تھی۔
اگست اور اکتوبر میں رہا کیے جانے والے 52 قیدیوں کو فلسطینی قیدیوں کو فلسطینی صدر محمود عباس نے ہیرو قرار دیا تھا۔
آٹھ مردوں کو رات کے وقت غزہ اور مشرقی یروشلم کے چیک پوائنٹس کی جانب لیجایا گیا جبکہ 18 قیدیوں کو مغربی کنارے میں رام اللہ لیجایا گیا تھا۔
اسرائیل میں موجود متاثرین کے لواحقین نے کئی دن احتجاجی مظاہرے کیے اور سپریم کورٹ میں اپیل کی ہے کہ ان کی رہائی کو روکا جائے۔
ماضی میں عدالتوں نے ایسی رہائیوں کی اجازت دی ہے۔
اسرائیلی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’اگر رہاشدہ قیدی دوبارہ مخالفانہ کارروائیوں کو شروع کرتے ہیں تو انہیں دوبارہ پوری زندگی جیل میں گزارنی ہو گی۔‘
وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ان افراد کو رہا کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا جو لیکود پارٹی کے دفتر پر خطرناک حملے میں ملوث تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’قیادت اپنے فیصلوں کے نفاذ سے جانی جاتی ہے چاہے وہ کتنے مشکل ہوں۔ ہمیں آسان فیصلے کرنے کے لیے منتخب نہیں کیا جاتا ہے۔‘
فلسطین کے وزیر برائے جیل خانہ جات عیسیٰ قراقائی نے اسرائیلی شکایات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل ایک قاتل ریاست ہے اور یہ قیدی آزادی کے جنگجو ہیں۔‘
بی بی سی اردو
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…