Categories: فقہ و احکام

قسم كا كفارہ واجب ہونے كے باوجود سوموار اور جمعرات كا روزہ ركھنا

ميرے ذمہ كيے ايك كفارے ہيں جو ميں نے ابھى ادا كرنے ہيں، كيونكہ ميں نے كئى قسميں توڑى ہيں، اور يہ كفارہ بہت وقت طلب ہے اس كى ادائيگى ميں وقت لگےگا، كيا ميرے ليے ممكن ہے كہ ميں فديہ سے دور رہتے ہوئے سوموار اور جمعرات كا نفلى روزہ ركھا ليا كروں ؟

الحمد للہ:

اول:
مسلمان شخص پر اپنى قسم كى حفاظت كرنا واجب ہے اور اسے چاہيے كہ وہ بہت زيادہ قسميں اور حلف مت اٹھائے بلكہ صرف اسى معاملہ ميں قسم اٹھائے جو قسم كا مستحق ہو كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ اور تم اپنى قسموں كى حفاظت كرو }المآئدۃ ( 89 ).
شيخ سعدى رحمہ اللہ اس كى تفسير ميں رقمطراز ہيں:
” اپنى قسموں كو جھوٹے حلف اور جھوٹى قسموں سے اور كثرت سے قسميں اٹھانے سے محفوظ ركھو، اور جب قسم اٹھا لو تو پھر اسے توڑنے سے محفوظ ركھو، ليكن اگر قسم توڑنے ميں خير ہو تو پھر كوئى بات نہيں “.
ديكھيں: تفسير السعدى ( 1 / 242 ).

دوم:
قسم كا كفارہ دس مسكينوں كو كھانا دينا، يا پھر دس مسكينوں كو لباس فراہم كرنا ہے، اور جو شخص ان دونوں ميں سے كسى كى ادائيگى كى استطاعت نہ ركھتا ہو تو وہ تين روزے ركھے.
اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ اللہ تعالى تمہارى لغو قسموں ميں تمہارا مؤاخذہ نہيں كرتا، ليكن مؤاخذہ ان قسموں ميں كرتا ہے جو تم نےپختہ كى ہيں، تو اس كا كفارہ يہ ہے كہ دس مسكينوں كو كھانا ديا جائے اوسط درجےكا جو تم اپنے گھر والوں كو كھلاتے ہو، يا پھر ايك غلام آزاد كيا جائے، اور جو كوئى نہ پائے تو وہ تين دن كے روزے ركھے، يہ تمہارى قسموں كا كفارہ ہے جب تم قسميں اٹھاؤ اور تم اپنى قسموں كى حفاظت كرو، اللہ تعالى اسى طرح تمہارے ليے اپنى آيات بيان كرتا ہے تا كہ تم شكر ادا كرو }المآئدۃ ( 89 ).
لہذا آپ كے ليے قسم كے كفارہ ميں روزے ركھنے اسى صورت ميں جائز ہونگے جب آپ قسم كے كفارہ كے ان امور ميں سے كسى ايك كى ادائيگى سے عاجز ہو يعنى كھانا كھلانا يا پھر دس مسكينوں كو لباس مہيا كرنا يا پھر ايك غلام آزاد كرنا. اگر اس سے عاجز ہوں تو روزے ركھيں گے وگرنہ نہيں.

ابن منذر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
” علماء كا اس پر اتفاق ہے كہ اگر قسم اٹھانے والا كھانا كھلا سكتا ہو يا پھر ان كا لباس مہيا كر سكتا ہو يا غلام آزاد كر سكتا ہو تو اس كے ليے قسم كے كفارہ ميں روزے ركھنا كافى نہيں ہونگے ” انتہى
ديكھيں: الاجماع ( 157 ).

سوم:
كفارہ كے روزے ركھنے سے قبل سوموار يا جمعرات وغيرہ نفلى روزے ركھنے ميں كوئى مانع نہيں، بلكہ كفارہ كے روزے ختم ہونے سے قبل بھى نفلى روزے ركھے جا سكتے ہيں، ليكن يہ نفلى روزے كفارہ ميں شمار نہيں ہونگے.
ليكن ہمارى آپ كو يہى نصيحت ہے كہ اگر آپ قسم كےكفارہ ميں جو اشياء پہلے بيان ہوئى ہيں ان سےعاجز ہيں تو آپ پہلے كفارہ كے روزے ركھيں، كيونكہ كفارہ سے برى الذمہ ہونے كے ليے آپ اس واجب كو پہلے ادا كريں، اور پھر نفلى روزوں سے قبل واجب روزوں كى قضاء پہلى ادا كرنى اولى ہے.
واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago