حال ہی میں کئے جانے والے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغان فوجیوں کو ٹریننگ دینے کے مشن پر تعینات فوجیوں کی اکثریت دوبارہ اس مشن میں شرکت کی خواہشمند نہیں۔ سروے فوج کی جانب سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپریشنل بیس سے واپس کے بعد پہلا کینیڈین دستہ افغان فوجیوں کی تربیت کر رہا تھا۔ سروے کے دوران صرف ایک تہائی اہلکاروں نے دوبارہ یہاں تعیناتی پر رضا مندی کا اظہار کیا۔ انفرادی سروے میں انسٹھ فیصد جبکہ یونٹ کی سطح پر بہتر فیصد اہلکاروں کا حوصلہ اوسط سے بھی کم تھا۔ تقریبا نصف اہلکاروں نے افغان فوجیوں کو تربیت دینے سے مطمئن نہیں جبکہ صرف بتیس فیصد نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صرف اٹھاون فیصد اہلکار وں کے نزدیک انکی افغان فوج کے تربیتی مشن میں خدمات اہم ہیں۔ اس سروے نے عسکری قیادت کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ کینیڈین فوج تریبتی مشن کے بعد اپنے ملک واپس روانہ ہو جائے گی۔
اردو ٹائمز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…