Categories: پاکستان

سانحہ راولپنڈی‘ دینی جماعتوں کا ملک گیر احتجاج

 

 

 

سانحہ راولپنڈی کیخلاف دفاع پاکستان کونسل، وفاق المدارس العربیہ، جمعیت علماءاسلام (س)، اہلسنت و الجماعت، سنی وحدت المسلمین، پاکستان علماءکونسل سمیت مختلف مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کی اپیل پر گزشتہ روز ملک گیر یوم احتجاج منایا گیا۔

جمعہ کے اجتماعات میں مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں جبکہ کوئٹہ، شیخوپورہ، بھکر، سوہدرہ، چنیوٹ، جہلم، ساہیوال سمیت کئی شہروں میں شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی گئی جبکہ گوجرانوالہ، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، حافظ آباد، قصور، فیصل آباد، سرگودھا اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔

راولپنڈی میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی جبکہ مظاہرین کے پتھراﺅ سے ایک ڈی ایس پی زخمی ہو گیا۔  

کراچی میں مظاہرے کے دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے لاٹھی چارج کیا جبکہ کئی افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ پشاور میں جلوس پر پولیس اہلکار کی فائرنگ سے خاتون سمیت 9 افراد زخمی ہو گئے، 2 زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ 

راولپنڈی کے راجہ بازار میں نماز جمعہ کے اجتماع کے بعد لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالا۔ مظاہرین سانحہ راولپنڈی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین نے راجہ بازار سے فوارہ چوک جانے کی کوشش کی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی جبکہ پولیس پر مظاہرین نے پتھراو کیا۔ مظاہرین کے پتھراو سے ڈی ایس پی زخمی ہو گئے۔ مدرسہ دارالعلوم تعلیم القرآن کی انتظامیہ نے ریلی نہ نکالنے کا فیصلہ کیا۔ نماز جمعہ کے خطبہ میں امام صاحب نے نمازیوں سے ریلی نہ نکالنے کا عہد لیا۔ جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد لوگ پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

اسلام آباد میں لال مسجد سے اہلسنت کی ریلی نکالی گئی۔ یہ ریلی مولانا عبدالعزیز اور مولانا مسعود حقانی کی قیادت میں نکالی گئی جس میں لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

کراچی میں گارڈن ہیڈ کوارٹر کے باہر سانحہ راولپنڈی کیخلاف احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔ سپرہائی وے اور الآصف سکوائر کے قریب مشتعل افراد نے گاڑیوں پر پتھراﺅ کیا، لیاقت آباد اور حسن اسکوائر کے قریب نامعلوم افراد نے جلوس کے گزرنے پر ہوائی فائرنگ کی جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ مشتعل افراد نے گاڑیوں پر پتھراﺅ بھی کیا۔

چمن میں جمعیت علمائے اسلام نظریاتی نے ریلی نکالی۔ ملک کے دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے جو پرامن رہے۔ لاہور میں پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔

احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ رہی۔ راولپنڈی، فیصل آباد سمیت مختلف شہروں میں تعلیمی اور کاروباری ادارے بند رہے۔ راولپنڈی سمیت کئی شہروں کی فضائی نگرانی کی گئی۔ وفاقی دارالحکومت میں ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا۔ راولپنڈی میں فوج کو الرٹ کیا گیا تھا، کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی تھی۔ ادھر وفاقی پولیس نے ریڈ زون کے اطراف کنٹینرز لگا کر ریڈ زون کو سیل کردیا۔ سول سیکرٹریٹ اور وزیراعظم ہاو¿س جانے والے تمام راستے سیل کردئیے گئے، پارلیمنٹ ہاو¿س، الیکشن کمیشن، دفتر خارجہ، وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ جانے والے راستوں کو سیل کر کے سکیورٹی الرٹ کردی گئی تھی، سپریم کورٹ میں سائلین بھی نہ پہنچ سکے۔ وزیراعلی کے احکامات کی روشنی میں لاہور کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کی جاتی رہی۔ سکیورٹی کےلئے 10 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کئے گئے، مساجد، امام بارگاہوں اور اہم مقامات پر پولیس کے دستے تعینات کئے گئے، لاہور کے خارجی اور داخلی راستوں پر سخت چیکنگ کی گئی، مسجد شہدائ، امام بارگاہوں اور اہم مقامات پر پولیس کے دستے تعینات تھے جبکہ کربلا گامے شاہ، مسجد شہدائ، پریس کلب کو جانے والے راستے پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرکے سیل کر رکھے تھے، وزیراعلی شہباز شریف کو صورتحال سے باخبر رکھا جاتا رہا۔ ادھر کراچی سمیت اندرون سندھ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہائی الرٹ رہے، مزار قائد سے گرومندر جانے والی سڑکیں کنٹینرز لگا کر سیل کردی گئیں، تین ہٹی سے نمائش اور لسبیلہ سے گرومندر آنے والی سڑک کو بھی رکاوٹیں کھڑی کر کے بلاک کیا گیا تھی۔

دوسری جانب خیبر پی کے سمیت بلوچستان میں بھی سانحہ راولپنڈی کیخلاف احتجاج کے باعث سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ کوئٹہ میں مکمل شٹر ڈاو¿ن رہا اور تمام چھوٹی بڑی مارکیٹیں بند رہیں۔ جماعت اہلسنّت، سنی اتحاد کونسل سمیت مختلف تنظمیوں کی جانب سے جمعہ کو ملک بھر میں ”یومِ یکجہتی و رواداری“ منایا گیا۔ علامہ سیّد حسین الدین شاہ، علامہ شاہ تراب الحق قادری، صاحبزادہ غلام صدیق نقشبندی، پیر سیّد خضر حسین شاہ، مفتی محمد اقبال چشتی، پیر خالد سلطان قادری، علامہ فاروق خان سعیدی، پیر سیّد شمس الدین بخاری، علامہ بشیر القادری، مولانا محمد اکرم سعیدی اور دیگر علماءو مشائخ نے نماز جمعہ کے خطبات میں صبر، تحمل، برداشت اور رواداری کا رویہ اپنانے کی ترغیب دی۔ انکا کہنا تھا امن پسندی، نرمی اور شائستگی کی روش ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے، قوم اپنے اتحاد سے فرقہ وارانہ فساد کی عالمی سازش کو ناکام بنائے۔ نماز جمعہ کے اجتماعات میں سانحہ راجہ بازار اور اسکے بعد امام بارگاہوں پر حملوں کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں۔ اس سلسلے میں بڑا احتجاجی مظاہرہ کربلا گامے شاہ کے سامنے کیا گیا۔ فیصل آباد میں چوک گھنٹہ گھر تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

ادھر پشاورکے علاقہ رنگ روڈ وخو پل کے قریب جلوس پر پولیس اہلکار کی فائرنگ کے نتیجہ میں خاتون سمیت 9 افراد زخمی ہوگئے تاہم پولیس تھانہ بھانہ ماڑی نے فائرنگ کرنیوالے اہلکار کو گرفتار کرکے ان کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ گزشتہ روز نماز جمعہ کے بعد قمر دین گڑھی رینگ روڈ سے نکالی گئی ریلی پر پولیس تھانہ بھانہ ماڑی کے اہلکار جو وخو پل کے اوپر سکیورٹی پر مامور تھا، نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر جلوس پرفائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں خاتون سمیت 9 افراد زخمی ہوگئے۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں دو افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ ذرائع کے مطابق جلوس میں شامل لوگ پولیس تھانہ بھانہ ماڑی کے ایس ایچ اوکی گاڑی کو راستہ نہیں دے رہے تھے جس کے باعث پولیس اور مظاہرین کے درمیان زبانی تکرار ہوگیا جس کے بعد پولیس کانسٹیبل نے مظاہرین پر فائرنگ کردی تاہم پولیس تھانہ بھانہ ماڑی نے ڈپٹی کمشنر پشاور سید ظہیر الاسلام کے کہنے پر فائرنگ کرنے والے کانسٹیبل علی بادشاہ کے خلاف دہشت گردی کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا ہے جس سے مزید تفتیش جاری ہے۔

ادھر سندھ بار کونسل کی اپیل پر وکلاءنے عدالتی بائیکاٹ کیا۔ علاوہ ازیں لاہور میں اہلسنت والجماعت کے زیراہتمام پریس کلب میں ہونے والے مظاہرے میں سانحہ راولپنڈی کے مجرموں کو گرفتار کرنے اور متاثرین کو فی الفور معاوضہ دینے اور مذہبی جلوسوں کو چاردیواری تک محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرہ میں اہلسنت والجماعت، جماعتہ الدعوة، جمعیت مشائخ اہلسنت و الجماعت، جمعیت علماءاسلام ف، جمعیت علماءاسلام (س)، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ، سنی وحدت المسلمین، متحدہ مجلس علماءاہلسنت دیوبند، اشاعت التوحید والسنتہ، جامعہ اشرفیہ، مسلم سٹوڈنٹ آرگنائزیشن، بزم حسان، جمعیت طلبہ عربیہ، اسلامی تحریک طلبہ کے رہنماﺅں نے خطاب کیا۔ پیر سیف اللہ خالد، مولانا شمس الرحمن، شیخ محمد یعقوب نے کہا کہ کہ ملک و اسلام دشمن عناصر پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانا چاہتے ہیں۔ بعدازاں قراردادیں منظور کرائی گئی کہ سانحہ سانحہ راولپنڈی کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما میاں حمزہ شہباز اور وزیراعلی پنجاب کے مشیر خواجہ احمد حسان اپنے دفاتر سے صورتحال مانیٹر کرتے رہے۔ ممبران قومی و صوبائی اسمبلی پرویز ملک، میاں مرغوب احمد، خواجہ عمران نذیر، ماجد ظہور نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ شہر بھر کے دورے کئے۔

 جماعت اہلحدیث نے بھی ملک گیر یوم احتجاج منایا۔ لاہور میں مظاہرے کی قیادت حافظ عبدالغفار روپڑی نے کی۔ علاوہ ازیں ورلڈ پاسبان ختم نبوت نے چوک گلبرگ تک ریلی نکالی۔ جے یو آئی نے مذمت منایا مساجد میں قراردادیں منظور کی گئیں۔ اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد عبداللہ، مولانا قاری فیاض الرحمن علوی، مولانا محمد امجد خان، مولانا محمد یوسف، مولانا رشید احمد لدھیانوی اور دیگر نے کہا ہے کہ حکومت اس سانحہ کی اصل حقیقت کو قوم کے سامنے لائے۔ عالمی انجمن خدام الدین نے شیرانوالہ گیٹ تک ریلی نکالی پاکستان علما کونسل نے بھی یوم احتجاج منایا۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری کی اپیل پر یوم امن منایا گیا۔ چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا کی اپیل پر ملک یوم امن و محبت منایا گیا اور مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں۔ جماعت اہلسنت پاکستان کے زیراہتمام بھی ملک گیر یوم یکجہتی رواداری منایا گیا۔ حقوق اہلسنت محاذ کے زیراہتمام بھی ملک بھر میں یوم امن و محبت منایا گیا۔ نمائندگان کے مطابق کوٹ رادھاکشن، پتوکی اور قصور میں احتجاجی ریلیاں اور جلوس نکالے گئے، ریلیوں کے شرکاءنے شدید نعرے بازی کی۔

گوجرانوالہ میں مختلف مذہبی، سیاسی اور تاجر تنظیموں کی طرف سے احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات بھی کئے گئے۔ ریلیاں گوندلانوالہ اڈہ سے برآمد ہوئیں اور شیرانوالہ باغ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگئیں جہاں علماءکرام نے ریلیوں کے شرکاءسے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ حکومت پنجاب کے ساتھ ساتھ راولپنڈی انتظامیہ نے بھی غفلت کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ ریلیوں کے راستوں میں ہر آنے جانیوالے افراد کی جامہ تلاشی کے ساتھ ساتھ کڑی نگرانی بھی ہوتی رہی۔ ملتان میں احتجاجی مظاہروں کے موقع پر پولیس نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے شہر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، گھنٹہ گھر چوک پر پولیس کے علاوہ فوج بھی تعینات کی گئی تھی۔

شیخوپورہ میں جامعہ توحیدیہ سول کوارٹر روڈ سے ریلی نکالی گئی جو لاہور روڈ پر احتجاجی دھرنا کے بعد احتجاجی جلسہ میں تبدیل ہو گئی۔ ریلی کی قیادت مولانا طاہر عالم، حافظ اشرف طاہر، حافظ اشفاق گجر، میاں جاوید لطیف، عارف خان سندھیلہ، کاشف عارف، شہزاد ڈوگر اور دیگر نے کی۔ مقررین نے کہا کہ عالمی فورسز مسلمانوں میں فرقہ واریت کے ذریعہ فساد پھیلا کر ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں۔ تمام علماءاور عوام کو متحد ہونا پڑیگا۔ علاوہ ازیں مختلف مذہبی جماعتوں کی طرف سے ریلی اور جلسہ کے سلسلہ میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے۔ جلسہ گاہ اور ریلی کے راستہ کو چاروں اطراف سے خاردار تاریں لگا کر سیل کردیا گیا۔ تاجروں کی تمام تنظیموں نے مکمل شٹرڈاﺅن ہڑتال کی، پولیس کی طرف سے شہر کے مختلف بازاروں، چوکوں میں ناکہ بندی کی گئی۔

نوائے وقت

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago