جنوبی وزیرستان کے نامعلوم مقام پرصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے شاہداﷲ شاہدنے کہاکہ حکیم اﷲ محسودکی ہلاکت کے بعداب حکومت کے ساتھ مذاکرات کاسوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ البتہ اگرنیا امیرکوئی فیصلہ کرتاہے تووہ الگ بات ہے۔ انھوں نے کہاکہ تحریک طالبان پہلے بھی مذاکرات کی مخالف نہیں تھی مگر حکومت کے اقدام نے ثابت کردیا کہ وہ بے اختیارہے۔ مذاکرات سے پہلے شریعت کانفاذ، ڈرون حملوں کی بندش، قبائلی علاقوں سے فوج کی واپسی اورقیدیوں کی رہائی کے بیانات کامقصد ہی حکومت کے اختیارکو ثابت کرناتھا۔ اب پوری دنیااس بات کی گواہ بن چکی ہے کہ حکومت بے اختیارہے کیونکہ ڈرون حملوں پر وزیراعظم نوازشریف امریکاسے ایسی التجاکررہے ہیں جو ایک عام قبائلی بھی کرسکتا ہے۔
شاہداﷲ شاہدنے کہاکہ ہمیں حکیم اللہ محسودکے قاتل معلوم ہیں، جہاں اور جب بھی ملے معاف نہیں کریں گے۔ محسودطالبان کاملا فضل اﷲ پرمکمل اعتمادہے۔ محسودطالبان بیت اﷲ محسودکی ہلاکت کے بعد بھی ملافضل اﷲ کے حق میں تھے مگرامرا نے حکیم اﷲ محسودپر اتفاق کیا۔ خیبرپختونخوا میں جنگ بندی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے شاہداﷲ شاہدنے کہاکہ ہمارے اوپرسب سے زیادہ حملے خیبرپختونخوا میں ہورہے ہیں۔ ہم دفاعی جنگ لڑرہے ہیں۔ جہاں سے ہمیں ٹارگٹ کیاجاتا ہے، وہاں ضرور حملے جاری رکھیں گے۔واڑی سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے امیرمولوی فضل اللہ نے سابق امیرحکیم اللہ محسود کے قتل کابدلہ لینے اور پاکستان میں کارروائیوں کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی، نئی حکمت عملی کے تحت فورسز اوردفاعی اداروں کے خلاف کارروائی کیلیے خفیہ کوڈ متعارف کرادیے،ترجمان کومیڈیا سے محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…