امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست کنٹیکی کے شہر ہیبرون میں بین الاقوامی کوریئر کمپنی ’’ڈی ایچ ایل‘‘ میں کام کے دوران وقفوں میں باجماعت نماز کی اجازت دی جاتی تھی تاہم بعد میں کوئی بھی وجہ بتائے بغیر اسے ختم کردیا گیا اور اس کا اطلاق وقفے پر بھی کردیا گیا تاہم جب ادارے کے مسلمان ملازمین نے وقفے کے دوران باجماعت نماز ادا کی تو ان میں سے 24 کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔
امریکا میں مسلمانوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ’’تنظیم کونسل آن امریکن اسلامی ریلیشن‘‘ نے اسے امریکی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ باجماعت نماز کی ادائیگی مسلمانوں کا بنیادی حق ہے جو امریکی آئین نے انہیں دیا ہے اس لئے کورئیر کمپنی کی جانب سے ان کی برطرفی غیر قانونی ہے جس کی شکایت امریکا میں ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے سرکاری ادارے میں بھی کردی گئی ہے دوسری جانب کورئیر کمپنی نے اس معاملے میں اپنا موقف دینے سے انکار کردیا ہے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…