امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست کنٹیکی کے شہر ہیبرون میں بین الاقوامی کوریئر کمپنی ’’ڈی ایچ ایل‘‘ میں کام کے دوران وقفوں میں باجماعت نماز کی اجازت دی جاتی تھی تاہم بعد میں کوئی بھی وجہ بتائے بغیر اسے ختم کردیا گیا اور اس کا اطلاق وقفے پر بھی کردیا گیا تاہم جب ادارے کے مسلمان ملازمین نے وقفے کے دوران باجماعت نماز ادا کی تو ان میں سے 24 کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔
امریکا میں مسلمانوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ’’تنظیم کونسل آن امریکن اسلامی ریلیشن‘‘ نے اسے امریکی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ باجماعت نماز کی ادائیگی مسلمانوں کا بنیادی حق ہے جو امریکی آئین نے انہیں دیا ہے اس لئے کورئیر کمپنی کی جانب سے ان کی برطرفی غیر قانونی ہے جس کی شکایت امریکا میں ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے سرکاری ادارے میں بھی کردی گئی ہے دوسری جانب کورئیر کمپنی نے اس معاملے میں اپنا موقف دینے سے انکار کردیا ہے۔
ایکسپریس نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…