امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست کنٹیکی کے شہر ہیبرون میں بین الاقوامی کوریئر کمپنی ’’ڈی ایچ ایل‘‘ میں کام کے دوران وقفوں میں باجماعت نماز کی اجازت دی جاتی تھی تاہم بعد میں کوئی بھی وجہ بتائے بغیر اسے ختم کردیا گیا اور اس کا اطلاق وقفے پر بھی کردیا گیا تاہم جب ادارے کے مسلمان ملازمین نے وقفے کے دوران باجماعت نماز ادا کی تو ان میں سے 24 کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔
امریکا میں مسلمانوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ’’تنظیم کونسل آن امریکن اسلامی ریلیشن‘‘ نے اسے امریکی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ باجماعت نماز کی ادائیگی مسلمانوں کا بنیادی حق ہے جو امریکی آئین نے انہیں دیا ہے اس لئے کورئیر کمپنی کی جانب سے ان کی برطرفی غیر قانونی ہے جس کی شکایت امریکا میں ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے سرکاری ادارے میں بھی کردی گئی ہے دوسری جانب کورئیر کمپنی نے اس معاملے میں اپنا موقف دینے سے انکار کردیا ہے۔
ایکسپریس نیوز
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام