پاکستان طالبان نے جمعہ کو اعلان کیا کہ انہوں نے حکومت کے خلاف انتقامی حملوں کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔
طالبان شوریٰ کے سربراہ عصمت اللہ شاہین نے نامعلوم مقام سے رائٹرز کو بتایا کہ وہ سیکورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات، پولیس اور سیاسی رہنماؤں کو ہدف بنائیں گے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد شوری نے جمعرات کو ملا فضل اللہ کو گروپ کا سربراہ منتخب کیا تھا۔
سخت گیر موقف رکھنے والے ملا فضل اللہ کے چناؤ کے ساتھ ہی جنگجوؤں کے ساتھ حکومت کے امن مذاکرات کے امکانات ختم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
ٹی ٹی پی ترجمان شاہد اللہ شاہد کا گزشتہ روز کہا تھا کہ اب پاکستانی حکومت کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے کیوں کہ ملا فضل اللہ پہلے ہی ان مذاکرات کے خلاف تھے۔
شاہین نے مزید بتایا کہ طالبان کے مرکزی اہداف میں فوج اور پنجاب میں سرکاری تنصیبات بھی شامل ہیں۔
‘ہمارے پاس منصوبہ ہے، لیکن میں یہاں واضح کر دوں کہ ہم عام شہریوں، بازاروں اور پبلک مقامات کو ہدف نہیں بنائیں گے اور لوگوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں’۔
شاہین کے مطابق، پاکستان کے پاس ڈرون حملوں سے متعلق مکمل معلومات ہیں۔’ پاکستان امریکا کا غلام ہے، یہ امریکی کالونی ہے’۔
رائٹرز+ڈان
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…