برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تشدد کے ان واقعات میں بودھوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کے بقول فسادات کے بعد دونوں جانب خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے اندازوں کے مطابق تشدد کے واقعات کی وجہ سے ایک لاکھ 40 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ جب آنگ سان سوچی پر یہ بات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا کہ تشدد کی وجہ سے مسلمانوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے توانہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ ‘بہت سے بودھوں کو بھی ملک چھوڑنا پڑا ہے۔ ‘نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی پر ماضی میں بھی روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھانے پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ گذشتہ سال برما کی مغربی ریاست رخائن میں ہونے والے نسلی فسادات میں 190 افراد ہلاک ہوئے اور تقریباً ایک لاکھ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔ برما میں مسلمانوں اور بْدھوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ رواں برس اپریل میں مذہبی فسادات کی نئی لہر پھوٹ پڑی تھی جب دارالحکومت رنگون کے قریبی قصبے آوکھان میں بدھ مت کے بلوائیوں نے مسلمانوں کی مساجد اور جائیدادوں پر حملے کیے تھے۔ ان واقعات کے بعد آنگ سان سوچی نے کہا تھا کہ بودھ اکثریت کے ملک برما میں مسلمانوں کو زیادہ سکیورٹی ملنی چاہیے۔ اس وقت سرکاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مسلمان روہنگیا آبادی اور بدھ مت کے پیروکاروں کی آبادیوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کا عمل جاری ہے۔ حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ نسلی فسادات کے خاتمے کا یہ طویل المدتی حل نہیں ہے۔برما میں رہنے والے روہنگیا مسلمانوں کو برما کی حکومت نے شہریوں کا درجہ بھی نہیں دیا ہے اور اقوامِ متحدہ کے مطابق روہنگیا دنیا کی سب سے زیادہ ستائی جانے والی قوموں میں سے ایک ہیں۔
اردو ٹائمز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…