صحافيوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاكرات جلد ہی شروع ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت عسکریت پسندی کے خلاف ایک تفصیلی اور جامع پالیسی بنا رہی ہے اور تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت بھی اسی کا حصہ ہے۔
امریکی انتظامیہ کے ایک اہلكار نے ایک دن پہلے صحافيوں سے بات چیت میں کہا تھا کہ وزيرِاعظم نواز شریف نے ان مذاکرات کے بارے میں امریکہ کو بتایا ہے اور امریکہ نے ان سے یہی کہا کہ انہیں کوئی دقت نہیں بشرطیکہ طالبان پاکستانی آئین اور قانون کو ماننے کے لیے تیار ہوں۔
عافيہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کی ملاقات میں اس کا ذکر ہوا تھا۔
امریکی دفترِ خارجہ کے ایک اہلكار نے بی بی سی کو بتایا کہ وائٹ ہاؤس میں میاں نواز شریف اور صدر اوباما کی ملاقات میں عافيہ صدیقی کا ذکر ہوا تھا اور امریکی اہلکاروں نے یہ کہا ہے کہ فی الحال اس معاملے پر کوئی بات نہیں ہو رہی نہ ہی دونوں ملکوں کے درمیان اس کے لیے کسی طرح کا معاہدہ ہے۔
پاکستان میں بھی امریکی سفارتخانے کی ایک ترجمان نے یہ بیان ديا تھا کہ اس معاملے پر آگے کوئی بات نہیں ہو رہی۔
سرتاج عزیز نے صحافیوں کو بتایا کہ نواز شریف کے اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان بہتر افہام و تفہیم پیدا ہوگی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سال کے آخر تک ڈرون حملوں میں کافی کمی آئے گی۔
برجیش اپادھیائے
نامہ نگار بی بی سی اردو ، واشنگٹن
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…