غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی نیول سیلز کے خصوصی دستے نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں القاعدہ کے اہم ترین رہنما انس اللبی کو ان کے گھر کے باہر سے گرفتار کیا۔ انس اللبی 2011 میں لیبیا میں خانہ جنگی کے خاتمے اور معمر قدافی کی ہلاکت کے بعد اپنے آبائی شہر واپس آئے تھے، ان پر 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم حملے کرنے کا الزام ہے۔
دوسری جانب امریکی دستوں نے صومالیہ کے علاقے ہراوی میں القاعدہ کی ذیلی مقامی تنظیم ’’الشباب‘‘ کے سینیئر رہنما کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم وہ ناکام ہوگئی، امریکی میڈیا نے اعلیٰ عسکری حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی نیوی سیلز نے سمندر کے راستے صومالیہ کے علاقے براوی پہنچ کر الشباب کے رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے ایک مکان پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران وہ رہنما مارے گئے تاہم اس کی تصدیق کرنے سے پہلے ہی امریکی فوجیوں کو وہاں سے نکلنا پڑا۔ الشباب کے رہنما کی زندہ یا مردہ گرفتاری کیلئے کیا گیا یہ آپریشن گزشتہ ہفتے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں شاپنگ مال پر ہونے والے حملے پر کیا گیا۔ دوسری جانب الشباب کے ترجمان نے برطانوی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے امریکی حملے کو پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایکسپریس نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…