ابتدائی اطلاعات میں چار افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم بتایا گیا ہے کہ حملے کے بعد موقع پر فائرنگ کا زبردست تبادلہ ہوا ہے۔
پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور مقامی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ علاقے کو دہشت گردوں سے خالی کرا لیے جانے تک دور رہیں۔ تاکہ دو طرفہ فائرنگ کی زد میں آنے سے محفوظ رہ سکیں۔
فوری طور پر حملہ آوروں کی اس کارروائی کے مقاصد کا تعین نہیں ہو سکا ہے، ایک عالمی خبرساں ادارے کے موقع پر پہنچنے والے نمائندے کا کہنا کہ سکیورٹی اہکاروں نے پورے علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے۔
پولیس سربراہ ڈیوڈ کیمیاو کا کہنا ہے ہمارے افسران موقع پر موجود ہیں اور ان حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ابھی علاقے کے اندر ہی ہیں، تاہم عام شہریوں کے تحفظ کی خاطر احتیاط برتی جارہی ہے کہ کسی معصوم کو نقصان نہ ہو۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…