ابتدائی اطلاعات میں چار افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم بتایا گیا ہے کہ حملے کے بعد موقع پر فائرنگ کا زبردست تبادلہ ہوا ہے۔
پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور مقامی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ علاقے کو دہشت گردوں سے خالی کرا لیے جانے تک دور رہیں۔ تاکہ دو طرفہ فائرنگ کی زد میں آنے سے محفوظ رہ سکیں۔
فوری طور پر حملہ آوروں کی اس کارروائی کے مقاصد کا تعین نہیں ہو سکا ہے، ایک عالمی خبرساں ادارے کے موقع پر پہنچنے والے نمائندے کا کہنا کہ سکیورٹی اہکاروں نے پورے علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے۔
پولیس سربراہ ڈیوڈ کیمیاو کا کہنا ہے ہمارے افسران موقع پر موجود ہیں اور ان حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ابھی علاقے کے اندر ہی ہیں، تاہم عام شہریوں کے تحفظ کی خاطر احتیاط برتی جارہی ہے کہ کسی معصوم کو نقصان نہ ہو۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…