عراق میں پڑے پیمانے پر آپریشنز کے باوجود تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ عسکریت پسند شہریوں اور سیکورٹی فورسز کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔
بغداد کے شمال میں واقع صدر شہر میں دو بم دھماکے تقریباً شام 5:30 بجے ہوئے جسکے نتیجے میں کم از کم 57 افراد ہلاک جبکہ 120 سے زائد زخمی ہوگئے ۔
افسران کا کہنا ہے کہ پہلا دھماکہ اس وقت ہوا جب دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی کو خود کش بمبار نے دھماکے سے اڑا دیا جبکہ دوسرا بم یا تو گاڑی میں موجود تھا یا پھر یہ ایک کار بم دھماکہ تھا۔
القاعدہ سے منسلک سنی عسکریت پسند گروہ اکثر عراق میں مقیم شیعہ کمیونیٹی کو ہدف بناتے ہے۔
عراق میں رواں سال متعدد فرقہ وارانہ حملے ہوچکے ہیں جسکے باعث 2006 اور 2007 جیسے فرقہ وارانہ فسادات پھوٹنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
یہ دھماکہ اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز ایک سنی مسجد کے قریب بم دھماکے کے نتیجے میں 18 افراد مارے گئے تھے۔
اس کے علاوہ دیگر مختلف واقعات میں 12 افراد بشمول دس عراقی سیکورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں ماہ 540 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ اس سال 4300 ہلاکتیں پیش آئی ہیں ۔
ڈان نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…