Categories: مشرق وسطی

افغان طالبان کا سیاسی دفتر دوحہ سے منتقل کرنے پر غور

 

 

 

افغان طالبان اپنا سیاسی دفتر قطر سے کسی دوسرے مسلم ملک میں منتقل کرنے کے آپشن پر غور کررہے ہیں۔

طالبان کے ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ قطر میں سیاسی مذاکرات میں پیدا شدہ ڈیڈ لاک کی وجہ سے کیا گیا ہے تاہم قطر میں قائم دفتر کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جائے گا، یہاں  ہمارے کچھ نمائندے موجود رہیں گے۔ طالبان رہنما نے جو گذشتہ ماہ قطر میں تھے، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’’ایکسپریس ٹریبیون‘‘ کو بتایا کہ اگر سیاسی دفتر کسی دوسرے ملک میں کھولنے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا تو مذاکرات کیلیے نئی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ حال ہی میں افغان حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ اگر طالبان سعودی عرب یا ترکی میں اپنا سیاسی دفتر کھولتے ہیں تو ہم اس کی حمایت کریں گے۔ سعودی عرب اور ترکی اسلامی دنیا کے اہم ممالک ہیں اور کابل حکومت سے بھی ان کے اچھے تعلقات ہیں۔
ایک اور طالبان رہنما نے ’’ایکسپریس ٹریبیون‘‘ کو بتایا کہ سیاسی دفتر کے قیام کے حوالے سے ہمارے ترکی سے رابطے ہیں ، طالبان کے نمائندوں نے دوبار ترکی کا دورہ کیا ہے۔ آخری بار طالبان کے نمائندے گذشتہ اپریل میں استنبول گئے تھے جب افغان صوبے لوگر میں 8 ترک انجینئروںکو طالبان نے اغوا کرلیا تھا۔ افغان طالبان کے نمائندوں نے متعدد بار سعودی عرب کے دورے بھی کیے ہیں، بعض طالبان رہنمائوں کو عمرے کیلیے بھی مدعو کیا گیا جبکہ آئندہ حج کے موقع پر بھی سعودی حکام اور افغان طالبان میں مزید روابط کا امکان ہے۔ دوسری جانب افغان حکومت کے ترجمان جانان موسیٰ زئی نے ہفتے کوکابل میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سعودی عرب اور ترکی سے بہت اچھے تعلقات ہیں اور اگر طالبان ان دونوں ملکوں میں سے کہیں بھی اپنا سیاسی دفتر کھولتے ہیں تو ہم اس کی حمایت کریں گے تاہم ہماری پہلی ترجیح یہ ہے کہ طالبان کو اپنا سیاسی دفتر کابل میں قائم کرنا چاہیے۔
 
افغان وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہمیں رواں ماہ کے آخر میں صدر کرزئی کے دورہ پاکستان سے بہت توقعات وابستہ ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس دورے سے دونوں ملکوں کے مابین ایماندارانہ، نتیجہ خیز اور مضبوط بنیادوں پر تعاون کے نئے باب کا آغاز ہوگا۔ جب امن و سلامتی، معاشی ترقی اور استحکام کی بات آتی ہے تو دونوں ملکوں کا مفاد یکساں ہے۔ پریس بریفنگ کے دوران جانان موسیٰ زئی نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ امن عمل میں پاکستان ہمارا بھرپور ساتھ دے، صدر کرزئی کے آئندہ دورہ پاکستان سے دونوں ملکوں کے تعلقات کی نئی راہ کھلے گی۔
ہم پاکستان کی نومنتخب حکومت کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں، چاہے وہ سیاسی معاملات ہوں، معاشی یا سلامتی کے امور۔ انھوں نے کہا کہ افغان قیادت کم و بیش ایک دہائی سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی ہر ممکن کوششیں کررہی ہے لیکن بدقسمتی سے ہماری کوششوں کے باوجود نتائج وہ نہیں نکل سکے جس کی ضرورت تھی۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مقابلے کیلیے پاکستان اور افغانستان کا ساتھ ضروری ہے کیونکہ یہ دہشت گردی اور انتہا پسندی دونوں ملکوں کے لیے خطرناک ہیں۔ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان نے صدر کرزئی کے دورہ پاکساتن کی حتمی تاریخوں کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا۔

ایکسپریس نیوز

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago