Categories: مشرق وسطی

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، امریکا پالیسی پر نظرثانی کرے گا: اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ”اگر امریکا کو دمشق حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ثبوت ملے تو وہ شام سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے گا”۔
وائٹ ہاؤس واشنگٹن میں منگل کو نیوزکانفرنس میں امریکی صدر نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق گذشتہ ہفتے عشرے کے دوران منظرعام پر آنے والی خفیہ اطلاعات کے بارے میں اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ”مجھے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مجھے حقائق کا پتا چلے اور امریکی عوام بھی اسی کی توقع کرتے ہیں”۔

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اور عالمی برادری کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ اسد رجیم نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں تو یہ کھیل کا پانسا پلٹنے والا معاملہ ہوگا۔
حال ہی میں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت پر باغیوں کے خلاف کارروائی کے دوران شہری علاقوں میں اعصاب کو متاثر کرنے والے مواد پر مشتمل کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔امریکی صدر اس سے پہلے ان خطرناک ہتھیاروں کے شامی باغیوں کے خلاف استعمال کو سرخ لکیر قرار دے چکے ہیں۔ اب انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں امریکا کی فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد تو نہیں کیا لیکن اس حوالے سے انھوں نے محتاط طرز عمل کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ”گیم چینجر (کھیل کا پانسا پلٹنے) سے میری مراد یہ ہے کہ ہمیں ان آپشنز پر غور کرنا ہے جو ہمارے پاس موجود ہیں۔یقیناً ہمارے پاس بہت سے آپشنز موجود ہیں اور ان کا ابھی تک ہم نے اطلاق نہیں کیا ہے”۔
امریکی صدر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ”گذشتہ سال کے دوران میں نے پینٹاگان ،فوج اور اپنے انٹیلی جنس حکام سے کہا تھا کہ وہ میرے لیے دستیاب آپشنز وضع کریں لیکن میں ان کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا کہ وہ آپشن کیا ہیں”۔
صدر اوباما نے گذشتہ جمعہ کوبھی ایک بیان کہا تھا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کھیل کا پانسا پلٹنے والا ہو گا۔گذشتہ ہفتے کے دوران امریکا،اسرائیل اور برطانیہ کے اعلیٰ عہدے داروں نے اپنے بیانات میں شام میں باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے اشارے دیے ہیں۔
امریکا کےعلاوہ برطانیہ نے شامی حکومت پر باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور یہ الزام شامی دارالحکومت کے نواحی علاقے سے اسمگل شدہ زمین کے نمونوں کے تجزیے کے بعد عاید کیا گیا تھا۔ان نمونوں میں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے اجزاء پائے گئے تھے۔
لیکن شامی فوج کے ایک منحرف جنرل نے تین روز قبل ہی العربیہ کے ساتھ انٹَرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ ”شامی حکومت نے منتخب علاقوں میں لڑائی کے دوران جیش الحر کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے احکامات جاری کیے تھے لیکن انھوں نے ان احکامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔
شامی فوج کی کیمیائی ہتھیار برانچ کے سابق سربراہ جنرل زاہرالساکت نے بتایا کہ ”مجھے جیش الحر کے خلاف غاروں اور سرنگوں میں زہریلے کیمیکلز استعمال کرنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن میں نے تمام کیمکلز میں پانی ملا دیا اور اس کے بجائے بے ضرر پانی کا استعمال کیا تھا”۔ان کے بہ قول ان کے منحرف ہونے تک جیش الحر کے خلاف کوئی کیمیکل ہتھیار استعمال نہیں کیے گئے تھے۔انھوں نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ ”تمام کیمیائی ہتھیار دفن کردیے گئے تھے اور ان ہتھیاروں کو تلف کرنے کی درست جگہ کی نشاندہی بھی کر سکتا ہوں”۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

3 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago