العربیہ ٹی وی کے رپورٹ کے مطابق عراقی القاعدہ کے رہنما ابو بکر البغدادی نے اس حیران کن امر کا اعلان پہلی مرتبہ منگل کے روز کیا، جس کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان مشتبہ رابطوں کی تصدیق ہو گئی ہے۔
ابو بکر البغدادی نے شامی النصرہ محاذ سے اپنے تعلق کا انکشاف ایک آڈیو پیغام میں کیا، جسے پیر کے روز آن لائن جہادی فورم پر پوسٹ کیا گیا اور اس کی موجودگی کی نشاندہی جہادی گروپوں کی ویب سائٹس کی نگرانی کرنے والے فورم SITE نے کی۔ بہ قول ابوبکر البغدادی: “اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے سامنے اس بات کا اعلان کر دیا جائے کہ شامی النصرہ محاذ عراق کی اسلامی ریاست ہی کا حصہ ہے۔
ماہرین کئی بار اس رائے کا اظہار کر چکے ہیں کہ النصرہ محاذ کو ہمسایہ ملک عراق میں القاعدہ سے وابستہ انقلابیوں سے مدد مل رہی ہے۔ یہ تنظیم دمشق اور حلب میں ہلاکت خیز دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے اور اس سے وابستہ جنگجوؤں نے دوسرے انقلابی بریگیڈیز کے ساتھ مل کر بشار الاسد نواز فوج پر حملوں میں حصہ لیا ہے۔
البغدادی نے مزید کہا کہ ان کی تنظیم دوسرے گروپوں سے اس شرط پر اتحاد کرنے کو تیار ہے کہ ملک اور عوام کو اللہ کے احکامات کی روشنی میں چلایا جائے گا۔
النصرہ محاذ شام کے طول و عرض میں اپنے خودکش حملوں کی وجہ سے ‘مشہور’ ہوا، تاہم حالیہ چند دنوں میں یہ ایک حقیقی جنگجو فورس بن کر ملک بھر میں مختلف محاذوں پر ‘داد شجاعت’ دے رہی ہے۔
شامی النصرہ محاذ کے عراقی القاعدہ سے متشبتہ رابطوں کے پیش نظر امریکا نے گزشتہ برس دسمبر میں تنظیم کو دہشت گرد قرار گروپس کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…