ٹی وی کے مطابق دھماکے سے تباہ ہونے والی گاڑی سبع بحارات اسکوائر اور الشھبندر کے درمیانی علاقے میں پارک تھی۔
دھماکا شام کے مرکزی بینک کے سامنے سبع بحارات اسکوائر کی ایک نسبتا خالی سڑک پر ہوا۔ الشھبندر اسکوائر کو جانے والی اسی شاہراہ پر فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کا دفتر بھی واقع ہے، جسے دھماکے سے شدید نقصان پہنچا۔
شام کے ‘الاخیاریہ’ سیٹلائیٹ ٹی وی چینل کے مطابق دھماکا علاقے میں واقع البخاری سکول کے قریب ہوا، جس کی وجہ سے آٹھ طلبہ بھی ہلاک ہو زخمی ہونے والوں میں بتائے جاتے ہیں۔
‘اے ایف پی’ سے وابستہ خاتون رپورٹر کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد علاقے میں شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا، تاہم اس کے باوجود آگ بجھانے والی گاڑیاں اور ایمبولینسز علاقے کی جانب جاتی دیکھی گئیں۔
سرکاری ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دھماکے کی جگہ پرفائرنگ کی آوازیں دراصل قانون نافذ کرنے والے ادراروں کے افراد کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد امدادی کارروائی کے لئے جانے والے کارکنوں کے لئے راستہ کھلوانا ہے۔
دھماکے کی شدت سے مرکزی بینک اور اردگرد واقع عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے کے مقام تک عام لوگوں کی رسائی بند کر دی ہے تاکہ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ نہ پڑے۔
ایجنسیاں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…