فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ “تین بین الاقوامی سیکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) سروس کے ارکان اور دو اتحادی شہریوں کو جنوبی افغانستان کے دھماکے میں نیشانہ بنایا گیا۔”
ایساف کی پالیسی کے مطابق مرنے والے فوجیوں اور شہریوں کی قومیت ظاہر نہیں کی گئی.
ایساف کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکا ایک کار بم میں تھا۔ اس نے ایک فوجی گشت کو نشانہ بنایا. اس دھماکہ میں افغان شہریوں کی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔
ایک افغان اہلکار نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دھماکے میں ایک نیٹو فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔ یہ دھماکہ قلات شہر میں ہوا جو جنوبی زابل صوبے کا دارالحکومت ہے۔
صوبائی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک گاڑی دھماکہ خیز مواد سے اس وقت پھٹ گئی جب نیٹو قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا اس دھماکہ کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا۔
اتحادی افواج 2014 کے آحر تک مکمل طور پر افغانستان چھوڑ دینگی۔ یہ حملہ اس سال کا اتحادی فوج پر خطرناک ترین حملہ تھا۔
ڈان نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…