فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ “تین بین الاقوامی سیکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) سروس کے ارکان اور دو اتحادی شہریوں کو جنوبی افغانستان کے دھماکے میں نیشانہ بنایا گیا۔”
ایساف کی پالیسی کے مطابق مرنے والے فوجیوں اور شہریوں کی قومیت ظاہر نہیں کی گئی.
ایساف کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکا ایک کار بم میں تھا۔ اس نے ایک فوجی گشت کو نشانہ بنایا. اس دھماکہ میں افغان شہریوں کی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔
ایک افغان اہلکار نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دھماکے میں ایک نیٹو فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔ یہ دھماکہ قلات شہر میں ہوا جو جنوبی زابل صوبے کا دارالحکومت ہے۔
صوبائی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک گاڑی دھماکہ خیز مواد سے اس وقت پھٹ گئی جب نیٹو قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا اس دھماکہ کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا۔
اتحادی افواج 2014 کے آحر تک مکمل طور پر افغانستان چھوڑ دینگی۔ یہ حملہ اس سال کا اتحادی فوج پر خطرناک ترین حملہ تھا۔
ڈان نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید