فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ “تین بین الاقوامی سیکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) سروس کے ارکان اور دو اتحادی شہریوں کو جنوبی افغانستان کے دھماکے میں نیشانہ بنایا گیا۔”
ایساف کی پالیسی کے مطابق مرنے والے فوجیوں اور شہریوں کی قومیت ظاہر نہیں کی گئی.
ایساف کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکا ایک کار بم میں تھا۔ اس نے ایک فوجی گشت کو نشانہ بنایا. اس دھماکہ میں افغان شہریوں کی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔
ایک افغان اہلکار نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دھماکے میں ایک نیٹو فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔ یہ دھماکہ قلات شہر میں ہوا جو جنوبی زابل صوبے کا دارالحکومت ہے۔
صوبائی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک گاڑی دھماکہ خیز مواد سے اس وقت پھٹ گئی جب نیٹو قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا اس دھماکہ کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا۔
اتحادی افواج 2014 کے آحر تک مکمل طور پر افغانستان چھوڑ دینگی۔ یہ حملہ اس سال کا اتحادی فوج پر خطرناک ترین حملہ تھا۔
ڈان نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…