صوبائی حکام کے مطابق عسکریت پسندوں نے بارود سے بھری گاڑی عدالت کے باہر اڑا دی۔ اس دھماکے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا اور حملہ آوروں نے ایک عمارت میں پناہ لے لی۔
جس جگہ یہ دھماکہ کیا گیا ہے یہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے جہاں بینک اور بازار واقع ہیں۔
افغان صوبے فراہ کی سرحد ایران سے ملتی ہے اور یہاں ماضی میں بھی طالبان حملے کرتے رہے ہیں۔
عسکریت پسندوں نے یہ حملہ اس وقت کیا جب عدالت میں مشتبہ طالبان کے مقدمے کی سماعت جاری تھی۔ ایک غیر مصدقہ رپورٹ کے مطابق اس حملے میں مشتبہ طالبان کو رہا کرا لیا گیا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد حملہ آوروں اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے مشین گن سے فائرنگ کی گئی اور گرینیڈز کا استعمال کیا گیا۔
فراہ کے نائب گورنر محمد یونس نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں گورنر آفس سمیت کئی سرکاری دفاتر اور غیر سرکاری تنظیموں کے دفاتر کو نقصان پہنچا ہے۔
محمد یونس کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد حملہ آوروں نے مختلف عمارتوں میں پوزیشنیں سنبھال لیں۔
طالبان ترجمان قاری یوسف احمدی کے مطابق اس کارروائی میں متعددکمانڈوز کے علاوہ اسی افراد ہلاک ہوگئے جن میں پانچ عام شہری بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق ساڑھے آٹھ گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی میں گورنرہاؤس کو بھی نشانہ بنایاگیا۔
بی بی سی+خبررساں ادارے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…