Categories: مشرق وسطی

افغان صدر حامد کرزئی کی دوحہ میں امیر قطر سے ملاقات

افغان صدر حامد کرزئی نے دوحہ میں امیر قطرشیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی سے ملاقات کی ہے اور ان سے طالبان مزاحمت کاروں کا دفتر کھولنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔
قطر کی سرکاری خبررساں ایجنسی کیو این اے کی اطلاع کے مطابق ”افغان صدر نے شیخ حمد سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے”۔ایجنسی نے ملاقات کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔
حامد کرزئی ماضی میں دوحہ میں طالبان مزاحمت کاروں کے لیے رابطہ دفتر کھولنے کی مخالفت کرتے رہے ہیں کیونکہ انھیں اس بات کا خدشہ تھا کہ طالبان جنگجوؤں اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات کے عمل میں ان کی حکومت کو سائیڈ لائن کیا جاسکتا ہے اور مستقبل میں ان کے درمیان کسی ممکنہ امن معاہدے کی صورت میں ان کا قد کاٹھ کم ہوسکتا ہے۔
لیکن حال ہی میں انھوں نے پہلی مرتبہ طالبان کے دوحہ میں رابطہ دفتر کے قیام کی حمایت کی تھی۔ان کا یہ بھِی کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں ان کے مقررکردہ مذاکرات کاروں کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔
افغان صدر کے ترجمان ایمل فیضی نے دورے سے قبل ایک بیان میں کہا کہ ”ہم امن عمل اور قطر میں طالبان کا دفتر کھولنے کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔اگر ہم افغانستان میں قیام امن کے لیے بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو مرکزی فریق افغان حکومت کے نمائندے اور اعلیٰ امن کونسل ہونی چاہیے جس میں ملک کے تمام نسلی اور لسانی گروہوں کے نمائندے موجود ہیں”۔
ان کے بہ قول قطر میں طالبان کا رابطہ دفتر بعض شرائط کے تحت کھولا جانا چاہیے۔یہ صرف مسلح حزب اختلاف اور افغان حکومت کے مل بیٹھنے کی ایک جگہ ،ایک پتا ہونا چاہیے۔اس کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب افغان طالبان صدرکرزئی کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حامد کرزئی کی حیثیت امریکا کے ایک کٹھ پتلی کی ہے۔اگر طالبان اب صدرکرزئی یا اعلیٰ امن کونسل کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیتے ہیں تو قطر میں کھولے جانے والے دفتر کی کوئی اہمیت یا افادیت نہیں رہے گی۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ”قطر میں طالبان کا دفتر کھولنے کا حامد کرزئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ طالبان اور قطری حکومت کے درمیان معاملہ ہے۔قطر میں پہلے سے موجود ہمارے نمائندے ان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کریں گے”۔
واضح رہے کہ طالبان مزاحمت کاروں نے کچھ عرصہ قبل امریکا کے ساتھ اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیے جاری غیر رسمی مذاکرات منقطع کردیے تھے۔طالبان نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ ”امریکیوں کی مسلسل تبدیل ہوتی ہوئی پوزیشن کے پیش نظر امارت اسلامی نے ان کے ساتھ ہر طرح کے مذاکرات منقطع کردیے ہیں”۔
افغان صدر نے گذشتہ سال طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے امن جرگہ قائم کیا تھا جس میں افغانستان کی سرکردہ شخصیات شامل ہیں۔کرزئی حکومت اور عالمی برادری نے سابق حکمراں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے متعدد پیشگی شرائط عاید کررکھی ہیں۔ان میں بڑی شرائط یہ ہیں کہ وہ تشدد کی مذمت کریں،ہتھیار پھینک دیں،القاعدہ سے ناتا توڑ لیں، جمہوری اقدار کا احترام کریں اور آئین کو تسلیم کریں۔
لیکن طالبان مزاحمت کار ان پیشگی شرائط کو متعدد مرتبہ مسترد کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کا انخلاء مکمل نہیں ہوجاتا،وہ ملک میں قیام امن کے لیے مذاکرات نہیں کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago