برما: آدھی صدی بعد نجی اخباروں کی اشاعت

برما میں سرکاری میڈیا کی پچاس سالہ اجارہ داری ختم ہونے کے بعد نجی اخبار فروخت ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
سولہ اخباروں کو ابھی تک لائسنس جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ پیر کو چھپنے کے لیے صرف چار اخباروں کی تیاری مکمل ہے۔
گذشتہ دسمبر میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ یکم اپریل سے نجی روز نامچوں کو شائع ہونے کی اجازت دے دی جائے گی۔
برما میں ہمارے نامہ نگار کے مطابق یہ ملک میں مطلق العنان طرزِ حکومت سے نکلنے کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔
گولڈن فریش لینڈ اخبار کے اکیاسی اسلہ مدیر خین ماونگ لے نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ’مجھے آگے کئی مشکلات نظر آ رہی ہیں تاہم میں پیشہ ورانہ جذبے اور آذادیِ اٌظہار کی خاطر اپنے اخبار کو چلانے کے لیے تیار ہوں۔‘
یاد رہے کہ حالیہ وقتوں تک برما میں صحافیوں کو شدید پابندیوں کا سامنا تھا۔
نجی شعبے میں برمی، انگریزی، ہندوستانی اور چینی اخبار برما میں برطانوی دورِ حکومت میں عام تھے لیکن ان کو 1964 میں اقتدار میں آنے والے فوجی حکمرانوں نے بند کر دیا تھا۔
اس کے بعد صحافیوں کی نگرانی شروع کر دی گئی تھی اور ان کے ٹیلیفون ریکارڈ کیے جانے لگے تھے اور ان کو اکثر تشدد کان نشانہ بنایا جاتا یا پھر جیل میں ڈال دیا جاتا تھا اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اخباروں کو بند کیا جاتا تھا۔
لیکن صدر تھان سین کا 2011 میں برما میں اقتدار سنبھالنے کے بعد شروع کیے گئے اصلاحات کی وجہ سے میڈیا پر کنٹرول بھی کم کر دیا گیا ہے۔
گذشتہ اگست کو حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں اپنا کام چھاپنے سے پہلے سرکاری سنسر بورڈ کے پاس جمع کرانے کی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ نجی اخبار ایک ایسے وقت میں مارکیٹ میں آ رہے ہیں جب اپوزیشن لیڈر آنگ سان سو چی کا پارلیمان کے لیے منتخب ہونے کا ایک سال پورا ہو رہا ہے۔ آنگ سان سو چی پارلیمان کی ایک سرگرم رکن کے طور پر سامنے آئیں ہیں لیکن ہمارے نمائندے کے مطابق انہیں بھی ملک کو درپیش پیچیدہ مسائل کا حل ڈھونڈنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
آنگ سان سو چی کو برما میں مسلمانوں پر ہونے حملوں پر خاموش رہنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
آنگ سان سو چی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی بھی اس ماہ کے آخر میں اپنا ایک اخبار نکالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago