اس معاملے کی پیش رفت کے حوالے سے حکام کا کہنا ہے
طالبان قیدیوں کی رہائی کی افادیت کے معاملے میں اختلافات اس عمل میں عارضی طور پر تعطل پیدا ہونے کا اہم سبب ہے۔
افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان نے چھبیس سینئر طالبان رہنماؤں کو آزاد کیا تھا جو دوبارہ طالبان کی صفوں میں شامل ہوگے ہیں۔
ایک پاکستانی سفارت کار نے ڈان کو بتایا کہ نگرانی کے نظام کی غیر موجودگی کی وجہ سے طالبان کی رہائی فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن رہی ہے۔
کابل سے افغانی اہلکار نے فون پر بتایا کہ نظربند طالبان کی رہائی کے اثرات کے نے انہیں شک میں مبتلا کردیا ہے۔ اس عمل کا آغاز اعلیٰ سطح کی افغان امن کونسل کی اپیل پر ہوا تھا۔
انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا “ہمارے سامنے سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ مفاہمت کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے، اور تشدد کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔”
تاہم پاکستانی حکام نے اسے افغان پراپیگنڈہ قرار دے کر مسترد کیا ہے۔
اس تناظر میں دونوں فریقین کا اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کا نیا نظام وضع کیا جائے گا، جس کے تحت طالبان کو افغان حکام کے حوالے کیا جائے گا۔
نئے نظام کے تحت پاکستان نے افغانستان کو مطلوب طالبان قیدیوں کی فہرست اعلیٰ سطح کی افغان امن کونسل کو بھیجی تھی، تاکہ وہ ان ناموں کو منظور یا نامنظور کرسکیں۔
افغان سفیر عمر داؤد زئی نے کہا کہ ابھی تک نیا نظام تیار نہیں ہو سکا ہے جس کے لیے کافی مذاکرات بھی ہوئے ہیں اور حکام سے رابطے کیے ہیں۔
تاہم ذرائع نے بتایا کہ مستقبل میں طالبان کی رہائی سے متعلق اس نئے نظام میں تاخیر کی وجہ دونوں ملکوں کے درمیان ماضی کی بداعتمادی ہے۔
ڈان نیوز
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام