اس سے قبل ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر شائع کی گئی جس میں مسلح افراد جو اپنے آپ کو شام کے باغی کہہ رہے تھے اقوام متحدہ کی گاڑیوں کے قریب کھڑے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مبصرین اس علاقے میں شام اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر نظر رکھنے کے لیے تعینات تھے۔ عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک ٹیم کو اس علاقے کی جانب بھیج دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے نائب ترجمان نے کہا کہ مبصرین رسد پہنچانے گئے تھے جس وقت ان آبزرویشن پوسٹ 58 کے قریب روکا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ اس پوسٹ کو پچھلے ہفتے اس وقت نقصان پہنچا تھا جب اس کے قریب شامی فوج اور باغیوں میں لڑائی چھڑ گئی تھی۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں دیں۔
ویڈیو پر باغیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے اراکین اس وقت تک رہا نہیں کیے جائیں گے جب تک شامی فوجیں جملا گاؤں خالی نہیں کرتیں۔
دوسری جانب فری سیریئن آرمی نے اقوام متحدہ کے اراکین کو یرغمال بنائے جانے کی مذمت کی ہے۔ تنظیم کے رہنما جنرل سلیم ادریس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اقوام متحدہ کے اراکین کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوششیں کریں گے۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے بھی اراکیم کے یرغمال بنائے جانے کی مذمت کی ہے۔
بی بی سی اردو
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار