مقامی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والےافراد میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
یادرہے کہ بنگلہ دیش کی اسپیشل ٹریبونل میں جماعت اسلامی کے نائب امیر کے خلاف 1971 کی جنگ کے دوران نشل کشی کا مقدمہ چلایا گیا جس میں عدالت نے ان کو قصور وار ٹھریا۔
پولیس کے مطابق عدالتی فیصلے خلاف جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکن سڑکوں پر نکل آئے، مختلف مقامات پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں 34 افراد ہلاک ہوگئے جن میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
پولیس کےمطابق مظاہرین نے دیسی ساختہ دستی بم بھی پھینکے جس کے نتیجے میں 2پولیس اہلکارہلاک ہوئے جب کہ مظاہرین نے متعدد مندروں پر بھی دھاوا بولا۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیشی عدالت 21 جنوری سے اب تک جماعت اسلامی بنگلادیش کے 3 رہنماؤں کو سزائے موت سناچکی ہے۔ جس کے خلاف مظاہروں میں اب تک 50افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
خبررساں ادارے
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام