العربیہ میں شائع ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کے جو ارکان شام بشار الاسد کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑرہے ہیں اور جو بچوں کے قتل، لوگوں کو دہشت زدہ کرنےاور گھروں کو تباہ کرنے میں ملوث ہیں وہ شہید نہیں ہوں گے بلکہ جہنم میں جائیں گے۔
انھوں نے واضح کیا کہ شام میں اہل تشیع کو حزب اللہ کی مدد کی ضرورت نہیں ،وہاں سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے مزار کو تحفظ کی ضرورت نہیں کیونکہ ان سے اہل سنت بھی محبت کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2012ء میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ان کی جماعت کے کارکنان شام میں باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑ رہے ہیں لیکن وہ ایسا انفرادی حیثیت میں کررہے ہیں اور اس ضمن میں جماعت کی ان کو کوئی ہدایات نہیں۔
قبل ازیں اسی مہینے حزب اللہ کے ایک عہدے دار نے بتایا تھا کہ شام اور لبنان کے درمیان سرحد پر جھڑپ میں حزب اللہ کے تین جنگجو اور پانچ شامی باغی مارے گئے تھے۔
الشيخ صبحی الطفيلی نے لبنانی فوج کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ لبنانی لوگوں کو شام جانے سے روکنے کیلئےکچھ نہیں کررہی ہے۔
انھوں نے حزب اللہ کو شام میں مرنے والے ہر فرد کے قتل کا ذمے دار قرار دیا اور کہا کہ شام میں جاری تنازعے کا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو پہنچ رہا ہے۔
دی نیوز ٹرائب
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام