انھوں نے مسلسل جاری دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ’خاصی بہتری‘ آئی ہے لیکن صورتِ حال’ وہ نہیں ہے جو ہونی چاہیے تھی۔‘
تاہم ان کا اصرار ہے کہ صدام حسین کی حکومت کے دوران حالات کہیں بدتر تھے۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ دنیا دس سال قبل کے مقابلے پر زیادہ محفوظ نہیں ہے، لیکن اگر حالات جوں کے توں رہتے توحالات خراب ہوتے۔
20 مارچ کو عراق پر امریکی قیادت میں ہونے والی حملے کی دسویں برسی ہے۔ سابق برطانوی وزیرِ اعظم کا یہ انٹرویو خاص طور پر اس موقع پر لیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ برطانوی فوجیوں اور شہری ہلاکتیں زیادہ رہی ہیں، لیکن صدام کے دور میں بھی کردوں کے علاقے میں اور ایران عراق جنگ کے دوران بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
ٹونی بلیئر نے کہا کہ ان کے خیال میں ’بطورِ منتخب وزیراعظم ایسے فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔‘
’سوال یہ ہے کہ اگر میں اس کے برعکس فیصلہ کرتا تو کیا ہوتا؟ بعض اوقات جو سیاست میں ہوتا ہے، اور بدقسمتی سے ان کے ساتھ دھوکہ دہی اور جھوٹ کے الزام بھی گڈ مڈ کر دیے جاتے ہیں۔ آخر میں آپ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں جس میں آپ جو بھی فیصلہ کرتے ہیں اس کے نتائج مشکل ہوتے ہیں اور انتخاب مشکل ہوتا ہے۔ یہ بھی ایسا ہی معاملہ تھا۔‘
انھو ں نے کہا ، ’اگر ہم نے صدام کو نہ ہٹایا ہوتا ، تو فرض کیجیے کہ عرب دنیا میں یہ انقلاب آ رہے ہیں، تو پھر صدام، جو شاید شام کے اسد سے 20 گنا برا ہے، وہ عراق میں مزاحمت کو کچلنے کی کوشش کرتا۔ اس کے مضمرات پر غور کیجیے۔‘
’اس لیے جب آپ کہتے ہیں کہ کیا میں 2003 کے بعد ہونے والی اموات کے بارے میں سوچتا ہوں ۔۔۔ لیکن سوچیے اگر حالات کو اپنی جگہ رہنے دیا ہوتا تو کیا ہوتا۔‘
سابق برطانوی وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ عراق کا معاملہ متنازع ہے: ’میں نے بہت عرصہ پہلے لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش چھوڑ دی تھی کہ یہ اچھا فیصلہ تھا۔ ‘
لیکن انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کی مکمل پیچیدگیوں کو سمجھنا دنیا کے لیے بے حد اہم ہے جو شام اور ایران میں اسی قسم کے مسائل سے دوچار ہے۔
عراق پر حملہ 20 مارچ 2003 کو شروع ہوا تھا جس میں برطانوی فوج نے امریکہ کے ساتھ حصہ لیا تھا۔ اس جنگ میں برطانیہ کے 179 سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔ برطانیہ نے اپریل 2009 میں اپنی فوج کو واپس بلا لیا تھا۔
اس دوران کتنے عراقی ہلاک ہوئے، اس کا صحیح صحیح پتا نہیں، لیکن محتاط تخمینہ یہ ہے کہ ایک لاکھ کے لگ بھگ عراقی مارے گئے تھے۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…