Categories: افغانستان

افغانستان میں نیٹوفوج کے فضائی حملوں پر پابندی

افغانستان میں امریکا کی قیادت میں غیر ملکی فوجوں کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ وہ فضائی حملوں پر پابندی سے متعلق صدر حامد کرزئی کے حکم کی پاسداری کریں گے۔
افغان صدر نے اپنی سکیورٹی فورسز کوطالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ لڑائی میں نیٹو کی فضائی مدد لینے سے روک دیا ہے۔انھوں نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اس ضمن میں ایک فرمان جاری کریں گے۔انھوں نے یہ فیصلہ نیٹو کے فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کے ردعمل میں کیا ہے، کیونکہ اس وجہ سے انھیں اندرون ملک شدید تنقید اور دباؤ کا سامنا تھا۔

امریکی فوج کے جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کابل میں اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر کرزئی کے حکم کی تعمیل اور ان کی منشاء کے مطابق فوجی مدد دینے کو تیار ہیں۔جنرل ڈنفورڈ نے گذشتہ اتوار کو افغانستان میں امریکا کی قیادت میں نیٹو فوج کی کمان سنبھالی تھی۔

اس کے صرف تین روز بعد نیٹو فوج کے جنگی طیاروں نے مشرقی صوبے کنڑ میں ایک گاؤں پر فضائی حملہ کیا تھا۔اس میں پانچ بچوں سمیت دس شہری مارے گئے تھے۔صدرحامد کرزئی نے اس حملے پر احتجاج کے لیے جنرل ڈنفورڈ کو طلب کیا تھا۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ”میں نے صدر سے وسیع رہنمائی حاصل کی ہے اور آیندہ دنوں میں ہم اس کی تفصیلات طے کرلیں گے”۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی جنرل نے کہا کہ ”ہمیں ہر کارروائی میں محدود کردیا گیا ہے،ہمارے ہاتھ باندھ دیے گئے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ ہم افغان نیشنل سکیورٹی فورسز(اے این ایس ایف) کی حمایت جاری رکھیں گے اورصدر کی منشاء پر پورا اتریں گے”۔

ان کا کہنا تھا کہ ”ہم فضائی قوت کے علاوہ دوسرے طریقوں سے بھی افغانوں کی مدد کرسکتے ہیں”۔ان کے بہ قول ان کے فوجیوں نے شہریوں کی بلاجواز ہلاکتوں کو روکنے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔

واضح رہے کہ نیٹو نے افغانستان میں جون 2012ء میں عام لوگوں کی ہلاکتوں کے پے درپے واقعات کے بعد شہری علاقوں میں فضائی حملے محدود کردیے تھے۔تاہم امریکی فوج کے نائب کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کرٹس سکیپیروٹی کا کہنا تھا کہ فوجیوں کی جانیں بچانے کے لیے آخری حربے کے طور پر فضائی حملے کیے جاسکتے ہیں۔

لیکن اتوار کو جب نیٹو کے ایک ترجمان سے سوال کیا گیا کہ اس صورت حال میں اب بھی فضائی حملے کیے جا سکتے ہیں تو انھوں نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔واضح رہے کہ جنگ زدہ ملک میں مزاحمت کاروں کے خلاف افغان اور غیرملکی فوجوں کی کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ایک حساس ایشو رہی ہیں۔

افغانستان کی اپنی فضائیہ کوئی جنگی طیارہ نہیں رکھتی بلکہ اس کی فضائی قوت نہ ہونے کے برابر ہے اور افغان فوجی طالبان مزاحمت کاروں کے خلاف لڑائی کے دوران نیٹو فوج سے ہی فضائی مدد طلب کرتے رہے ہیں لیکن نیٹو کے فضائی حملوں میں طالبان مزاحمت کار تو کم مارے گئے ہیں۔البتہ عام بے گناہ شہری زیادہ تعداد میں مارے جاتے رہے ہیں۔

مشرقی اور جنوبی صوبوں میں خاص طور پر متعدد واقعات ایسے بھی پیش آئے کہ نیٹو طیاروں نے طالبان کے شُبے میں پوری پوری برات ہی کو نشانہ بنادیا اور افغانوں کی خوشیاں شادیٔ مرگ میں تبدیل ہوگئیں۔اس طرح کے واقعات میں چند لمحے قبل شادی کی خوشیاں منانے والے افغان بعد میں اپنے پیاروں کا ماتم کرتے دیکھے گئے۔ایسے ہی واقعات کی وجہ سے غیرملکی فوجیں طالبان کے خلاف جنگ میں مقامی آبادی کے دل ودماغ جیتنے میں ناکامی رہی ہیں اور اب وہ ایک سال بعد شکست خوردگی کے عالم میں افغانستان سے لوٹ رہی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago