پندرہ فروری دوہزار تیرا کے خطبہ جمعے کا آغاز قرآنی آیت :«إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» [انفال: 2]، (مومن تو وہ ہے مہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اسکی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔) کی تلاوت سے کرتے ہوئے انہوں نے کہا: اللہ کی بڑائی اور عظمت ان چیزوں کے ذریعے سمجھ آسکتی ہے جنہیں اللہ سبحانہ وتعالی نے کسی فیکٹری اور مزدور کی مدد کے بغیر خلق فرمایاہے۔ اسی موضوع کی جانب قرآن پاک میں اشارہ ہوا ہے : «تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاء بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًا» [فرقان: 61]، (اور (خدا) بڑی برکت والا ہے جس نے آسمانوں میں برج بنائے اور ان میں (آفتاب کا نہایت روشن) چراغ اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا) اللہ رب العزت نے ایک ایسی عظیم زمین کو خلق فرمایاہے جس کی تہہ اور آخری گہرائی تک اب تک کوئی نہیں پہنچ سکا ہے؛ یہ زمین بہت وسیع اور ضخیم ہے۔
اللہ تعالی کی عظمت کی دلایل پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: اللہ رب العزت نے ایک مقام پر اپنی عظمت پر دلیل دیتے ہوئے فرمایا ہے: «صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ» [نمل:88] اے لوگو! دیکھو اپنے رب کی تخلیق کہ کتنے بڑے پہاڑ بنائے گئے ہیں جو مضبوطی سے قائم ہیں۔ طویل و عریض سمندروں، زمین و آسمان اور سورج و چاندسمیت تمام کائنات پر نظر ڈالیں کہ کیسے اللہ تعالی نے بلانمونہ انہیں خلق فرمایاہے۔ ہر شے اللہ کے ارادے سے کسی خاص مقصد کیلیے خلق ہوچکی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ ہماری نظروں میں بڑے اور عظیم ہیں، اللہ کے دربار میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور وہ بہت چھوٹے شمار ہوتے ہیں۔ اللہ کی طاقت اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا: اللہ کی صفات بہت عظیم ہیں؛ علامہ ابن خلدون نے کہا ہے اللہ کی صفات کو انسانی عقل سے تجزیہ کرنا ایسا ہے جیسا کہ پہاڑوں کو سْنار کے ترازو میں تولنے کی بات کی جائے۔ اللہ تعالی سمیع اور بصیر ہے، تمام مخلوقوں کی سماعت اور بصارت کو اکٹھی کی جائے تو اللہ کی بیکراں صفات سمع وبصر کے سمندر سامنے ان کی حیثیت ایک قطرے کے برابر بھی نہ ہوگی۔ اسی بارے میں ارشادالہی ہے: «وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [لقمان: 27[، (اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو (اور) اسکے بعد سات سمندر اور (سیاہی ہو جائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اس کی صفتیں) ختم نہ ہوں بیشک خدا غالب حکمت والا ہے)
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: جس طرح نبی کریمﷺ امام الانبیاء اور افضل الرسل ہیں آپ کی امت بھی کوئی معمولی امت نہیں ہے۔ یہ پسندیدہ اور منتخب قوم ہے۔ کس قدر فضیلت کی بات ہے کہ اللہ تعالی کا خوبصورت نام ہماری زبانوں پر جاری ہوتاہے اور ہمیں توفیق نصیب ہوتی ہے کہ ہم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں اور اس کا کلام پڑھ لیں۔
انہوں نے کہا: اللہ تعالی انسانوں کی حاجتوں کو پوری کرسکتاہے اور جب انسان اپنے خالق سے اپنی حاجات کے بارے میں پوچھتاہے تو خوشی سے اس کی حاجتیں پوری ہوں گی۔ اللہ تعالی بیک وقت سب کی بات سن سکتاہے بلکہ دلوں میں پوشیدہ اسرار سے بھی آگاہ ہے۔ اسے کوئی ضرورت نہیں کہ ایک وقت میں کسی مخصوص علاقے پر توجہ فرمالے بلکہ اللہ تعالی کی طاقت بہت وسیع ہے۔
مولانا عبدالحمیدنے مزیدکہا: اللہ رب العزت کو کسی شخص یا شی کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ سب اس ذات پاک کے محتاج ہیں۔ اگر تمام انسان نیک و صالح بن جائیں تو اللہ کے خزانے میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا اور اگر سب فرعون جیسا کافر و قسی القلب بن جائیں پھر بھی اللہ کے خزانے سے کچھ کم نہیں ہوتا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: ہم تمام مسلمانوں کو اللہ کی معرفت حاصل کرنی چاہیے اور اللہ کی معرفت قرآن پاک کی آیات اور احادیث نبوی کی روشنی میں حاصل ہوتی ہے۔ اللہ کے مقرب اور نیک بندے جب اس کا کلام سنتے ہیں تو ان کے دل لرز اٹھتے ہیں اور تلاوت قرآن کے موقع پر وہ غافل نہیں رہتے۔ لہذا کثرت سے تلاوت کرنی چاہیے اور ہرجگہ تلاوت کرنی چاہیے اور تلاوت سننی چاہیے چاہے آپ گھر میں ہوں، یا آفس میں یا گاڑی میں۔ انسان کی ہدایت میں قرآنی آیات کا اثر اعجاب انگیز اور حیران کن ہے۔
اپنے خطاب کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے کہا: بہت سارے لوگ اور حکام امریکا و یورپ یا روس و چین جیسی طاقتوں کی حمایت اور مدد پر خوش ہیں؛ لیکن اللہ کے نیک و مؤمن بندے اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ اللہ کی حمایت انہیں نصیب ہو۔ اگر ہمیں اللہ تعالی کی پشت پناہی اور سپورٹ چاہیے تو اس کی پیروی کریں اور کسی بھی صورت میں اس ذات پاک کی نافرمانی نہ کریں۔ ہمیشہ اللہ سبحانہ وتعالی سے مدد مانگ لیں؛ اللہ سے مانگنے کیلیے کسی واسطے کی ضرورت نہیں جیسا کہ بعض لوگ غلط موازنہ کرتے ہیں کہ اعلی حکام تک بات پہنچانے کیلیے چھوٹے حکام کا سہارا لینا ہوگا۔ اللہ تعالی خالق ہے اور اس کی طاقت بہت زیادہ ہے، اسے کسی مخلوق سی تشبیہ نہیں دینی چاہیے۔ انبیائے کرام اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے براہ راست اللہ سے مانگی۔ ہمارا عقیدہ بھی یہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی شخص اس لائق نہیں کہ اس سے مدد لی جائے اور اسے پکارا جائے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…