ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ کانفرنس اور دیگر “ہارس ٹریڈنگ” کا مقصد دونوں “اصل فریقین” کے درمیان موثر اور نتیجہ خیز مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
یہاں اصل فریقین سے طالبان کا ممکنہ طور پر مقصد امریکا اور ان کے درمیان مذاکرات ہیں کیونکہ اس سے قبل بھی وہ کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات صرف طالبان اورامریکا کے درمیان ہو سکتے ہیں۔
طالبان نے مارچ 2012 میں سیاسی قیدیوں کے تبادلے کے تناظر میں قطر میں امریکی نمائندوں سے روابط منقطع کر دیے تھے اور خلیجی ریاست میں ایک رابطہ آفس کھول لیا تھا۔
مجاہد نے مزید لکھا ہے کہ فوجی شکست کا شکار مغربی فوجیں اپنی ناکامی چھپانے کیلیے پراپیگنڈے کے طور پر اس طرح کی کانفرنس کا انعقاد کرا رہی ہیں تاکہ یہ دکھا سکیں کہ مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت جاری ہے۔
مجاہد نے ٹیلیوفون پر اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویب سائٹ پر شائع شدہ اس طویل آرٹیکل کے بعد طالبان جلد ہی کانفرنس سے متعلق آفیشل بیان جاری کریں گے۔
ڈان نیوز
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام