تشدد زدہ نعشوں میں سے چار ڈیرہ بگٹی، تین کوئٹہ اور ایک آواران سے برآمد ہوئی ہیں۔
ڈیرہ بگٹی میں لیویز فورس کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا چار افراد کی نعشیں پیر کوہ کے علاقے سے دوپہر ساڑھے بارہ بجے برآمد کی گئیں۔
چاروں افراد کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلا ک کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت نیک محمد، مزارخان، نورالدین اور سبزعلی کے نام سے ہوئی ہے۔
کو ئٹہ سے تین افراد کی ہاتھ پاؤں بندھی نعشیں مشرقی بائی پاس کے علاقے بھوسہ منڈی کے قریب پہاڑ کے دامن سے ملی تھیں۔
کوئٹہ انتظامیہ کے مطابق تینوں افراد کو گولیاں مارکر ہلاک کیا گیا تھا۔ لیویز فورس نے نعشوں کو شناخت کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا ہے۔
ادھر آواران کے ضلع سے بھی ایک شخص کی تشدد زدہ نعش برآمد ہوئی ہے۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں سے سنہ دو ہزار نو کے بعد سے تشدد زدہ نعشوں کی بر آمدگی کا سلسلہ شروع ہوا۔
گزشتہ سال اکتوبر سپریم کورٹ میں محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے جو رپورٹ پیش کی گئی تھی اس کے مطابق اکتوبر تک بلوچستان سے چار سو سے زائد افراد کی نعشیں بر آمد ہوئی تھیں۔
جبکہ اکتوبر کے بعد بھی کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تشدد زدہ نعشیں برآمد ہوئی ہیں۔
سپریم کورٹ نے تشدد زدہ افراد کی نعشوں کی تحقیقات کا معاملہ سی آئی ڈی پولیس بلوچستان کے حوالے کر نے کا حکم دیا تھا۔
تاحال اس سلسلے میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
بی بی سی اردو
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…