Categories: مشرق وسطی

شام کا تنازعہ، بے مثال ہولناکی، ابراہیمی

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر ابراہیمی نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ شام کا تنازعہ ہولناکی کی اس سطح تک پہنچ گیا ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
اخضر ابراہیمی نے کہا کہ شام آہستہ آہستہ تباہ ہورہا ہے۔سفارت کاروں کے مطابق انہوں نے پندرہ ارکان پر مشتمل کونسل کو بند کمرے میں ہونے والے اجلاس کے دوران بتایا کہ’ ہولناکی بے مثال حد تک پہنچ گئی ہے۔اس سانحے کا کوئی اختتام نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ’ یہ ملک سب کے آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ہو رہا ہے۔ صرف بین الاقوامی کمیونٹی مدد کر سکتی اور خاص کر سکیورٹی کونسل۔‘
بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اخضر ابراہیمی نے کہا کہ شامی حکومت اور حزبِ اختلاف اپس کی لڑائی میں شام کو ’ٹکڑوں، ٹکڑوں‘ میں تباہ کر رہے ہیں۔
سلامتی کونسل پر شام کے حوالے سے اتفاقِ رائے قائم کرنے اور کارروائی کرنے کے لیے زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’خطے کو انتہائی خراب صورتِ حال میں دھکیل دیا گیا ہے۔اس لیے میرا خیال ہے کہ سکیورٹی کونسل مزید یہ نہیں کہ سکتا کہ ہمیں اتفاق نہیں لحٰذا اچھے وقتوں کا انتظار کرنا چاہیے۔میں سمجھتاہوں اب انہیں اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔‘
ان کا اشارہ سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان اس بات پر پائے جانے والے اختلاف رائے کی جانب تھا کہ آیا شامی صدر بشار الاسد کو اقتدار کی منتقلی میں کوئی کردار ادا کرنا چاہیے یا نہیں۔
اقوام متحدہ میں ہماری نامہ نگار باربرہ پلٹ کے مطابق اخضر ابراہیمی نے شام کی صورتِ حال کے حوالے سے واضح تجزیہ دیا جس سے ان کی سکیورٹی کونسل میں پیدا ہونے والے تعطل سے مایوسی ظاہر ہو رہی تھی۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی اس اپیل سے گھنٹوں پہلے شامی شہر حلب میں درجنوں مردہ افراد کی لاشیں ملیں۔ شامی حکومت اور حزب اختلاف نے ان ہلاکتوں کا الزام ایک دوسرے پر لگایا ہے۔
حزب اختلاف کے کارکنوں کے مطابق باغیوں کے کنٹرول والے ضلع بستان القصر میں ایک دریا کے کنارے کم از کم 71 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ اخصر ابراہیمی جون 2012 میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں منظور شدہ امن منصوبے کے تحت شام میں کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔جبکہ اقوام متحدہ کا سکیورٹی کونسل شام کے حوالے سے مہنیوں سے منقسم ہے۔
امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور دوسرے مغربی ممالک شامی صدر بشاروالاسد کی حکومت کے خلاف پابندیوں کی دھمکیاں دینے والے قراردادیں پیش کرتے ہیں۔ تاہم روس اور چین نے تین دفعہ اس قسم کی قراردادیں اپنی ویٹو پاور کے ذریعے مسترد کی ہیں۔ جبکہ روس نے جو شام کا قریبی اتحادی ہے بشاورالاسد کو حکومت سے علیحدہ ہونے کے مطالبات کی حمایت سے بھی انکار کیا ہے۔
بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago

اقبال اور فلسطین: ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق

دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…

1 month ago