ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق 2011 کے دوران 82 ممالک نے دنیا بھر میں دفاعی شعبے میں ہونے والی تجارت کا 94 فیصد خرچ کیا، عالمی طور پر ان ممالک نے اس شعبے میں 1.6 ٹریلین ڈالر صرف کئے جن میں کم از کم 20 ارب ڈالر کرپشن کی نذر ہوگئے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے ان 82 ممالک میں دفاع کے شعبے میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے موجود قوانین کا جائزہ لیا گیا۔ جن میں سے 57 ملکوں میں کرپشن روکنے کا کنٹرول انتہائی کمزور نظر آیا۔ سروے میں ممالک کو مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے ، سب سے خطرناک درجہ ’’کریٹیکل‘‘اس کے بعد ’’ ویری ہائی رسک‘‘ اور پھر ’’ ہائی رسک‘‘ہے۔
سروے کے مطابق اسلحے کی درآمد کرنے والے ممالک میں الجزائر، انگولا، کیمرون، ڈیموکریٹک ریپبلک کانگو، مصر، اریٹیریا، لیبیا، شام اور یمن ہیں، ان ممالک میں امن و امان کی صورت حال انتہائی گمبھیر ہے۔ جس کے بعد ویری ہائی رسک درآمد کنندہ ملکوں میں بھارت، متحدہ عرب امارات، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ترکی شامل ہیں جبکہ ہائی رسک والے ملکوں میں افغانستان، بحرین، ایران، فلپائن، قطر، سعودی عرب اور سری لنکا خاصے اہم ہیں۔
دفاعی شعبے میں برآمد کنندہ ملکوں میں چین، روس اور اسرائیل ایسے ملک ہیں جہاں اس شعبے میں سب سے زیادہ کرپشن ہے۔ سوئیڈن، امریکا، برطانیہ اور جنوبی کوریا جیسے ملکوں کے دفاعی شعبے میں کرپشن کی سطح قدرے کم ہے جس کی وجہ وہاں قدرے سخت قوانین کا ہونا ہے۔ فرانس، اسپین، اٹلی اور پولینڈ میں درمیانے درجے کی کرپشن ریکارڈ کی گئی ہے۔ سروے کے مطابق جرمنی اور آسٹریلیا میں دفاعی تجارت کو کرپشن سے پاک رکھنے کیلئے سخت ترین قوانین رائج ہیں۔
ایکسپریس نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…