صدارتی محل کے ایک گارڈ کے مطابق دھماکا صومالی وزیر اعظم کے سیکرٹریٹ اور ایتھوپیئن سفارتخانے کے درمیان والی دیوار کے قریب کیا گیا۔ صدارتی محل اسی کمپاؤنڈ میں ہے جہاں دونوں عمارتیں واقع ہیں۔
خودکش حملے میں چھے افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ صومالی فوج کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ تمام ہلاکتیں وزیر اعظم عبدی فرح شیردون کے دفتر کے سامنے ہونے والے بم دھماکے میں ہوئیں۔
جائے وقوعہ کے قریب موجود صومالی عہدیدار عبدالقادر علی نے بتایا کہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے سامنے دھماکے میں مرنے والے چھے افراد کی لاشیں انھوں نے خود دیکھی ہیں۔ لاشیں بری طرح مسخ ہو چکی تھیں اور جسمانی اعضاء کمپاؤنڈ کی دیوار کے آس پاس پڑے تھے۔
ایجنسیاں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…