صدارتی محل کے ایک گارڈ کے مطابق دھماکا صومالی وزیر اعظم کے سیکرٹریٹ اور ایتھوپیئن سفارتخانے کے درمیان والی دیوار کے قریب کیا گیا۔ صدارتی محل اسی کمپاؤنڈ میں ہے جہاں دونوں عمارتیں واقع ہیں۔
خودکش حملے میں چھے افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ صومالی فوج کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ تمام ہلاکتیں وزیر اعظم عبدی فرح شیردون کے دفتر کے سامنے ہونے والے بم دھماکے میں ہوئیں۔
جائے وقوعہ کے قریب موجود صومالی عہدیدار عبدالقادر علی نے بتایا کہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے سامنے دھماکے میں مرنے والے چھے افراد کی لاشیں انھوں نے خود دیکھی ہیں۔ لاشیں بری طرح مسخ ہو چکی تھیں اور جسمانی اعضاء کمپاؤنڈ کی دیوار کے آس پاس پڑے تھے۔
ایجنسیاں
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…